آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 79 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 79

روحانی خزائن جلده ۷۹ آئینہ کمالات اسلام وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحفِظِيْنَ يُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً لَهُ مُعَقِّبْتُ ) مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُوْنَ مِنْ أَمْرِ اللهِ - ترجمہ ان آیات کا یہ ہے کہ تم پر حفاظت کرنے والے مقرر ہیں خدا تعالیٰ ان کو بھیجتا ہے ۔ اور خدا تعالیٰ کی طرف سے چوکیدار مقرر ہیں جو اس کے بندوں کی ہر طرف سے یعنی کیا ظاہری طور پر اور کیا باطنی طور پر حفاظت کرتے ہیں ۔ اس مقام میں صاحب معالم نے یہ حدیث لکھی ہے کہ ہر یک بندہ کیلئے ایک فرشتہ موکل ہے جو اس کے ساتھ ہی رہتا ہے۔ اور اس کی نیند اور بیداری میں شیاطین اور دوسری بلاؤں سے اس کی حفاظت کرتا رہتا ہے اور اسی مضمون کی ایک اور حدیث کعب الاحبار سے بیان کی ہے اور ابن جریر اس آیت کی تائید میں یہ حدیث لکھتا ہے ان معكم من لا يفارقكم الا عند الخلاء وعند الجماع فاستحيوهم و اکرموهم - یعنی تمہارے ساتھ وہ فرشتے ہیں کہ بجز جماع اور پاخانہ کی حاجت کے تم سے جدا نہیں ہوتے ۔ سو تم ان سے شرم کرو اور ان کی تعظیم کی چمک پیدا ہوتی ہے۔ یہ خدا تعالی کا ایک بندھا ہوا قانون ہے کہ ہر یک محبت کے انداز و پیر الہی محبت نزول کرتی رہتی ہے اور جب انسانی محبت کا ایک دریا بہ نکلتا ہے تو اس طرف سے بھی ایک دریا نازل ہوتا ہے اور جب وہ دونوں دریا ملتے ہیں تو ایک عظیم الشان نوران میں سے پیدا ہوتا ہے جو ہماری اصطلاح میں روح القدس سے موسوم ہے لیکن جیسے تم دیکھتے ہو کہ اگر میں سیر پانی میں ایک ماشہ مصری ڈال دی جائے تو کچھ بھی مصری کا ذائقہ معلوم نہیں ہوگا اور پانی پھیکے کا پھیکا ہی ہو گا ۔ مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ مصری اس میں نہیں ڈالی گئی اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ پانی میٹھا ہے ۔ یہی حال اس روح القدس کا ہے جو ناقص طور پر ناقص لوگوں پر اترتا ہے اس کے اترنے میں تو شک نہیں ہوسکتا الانفطار: ۱۱ الانعام: ۶۲ الرعد:١٢ نزول کا حال