آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 78 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 78

روحانی خزائن جلده۔ ZA آئینہ کمالات اسلام ۷۸ مقرر نہیں بلکہ متعصب سے متعصب انسان سمجھ سکتا ہے کہ باطن کی حفاظت اور روح کی نگہبانی جسم کی حفاظت سے بھی زیادہ ضروری ہے کیونکہ جسم کی آفت تو اسی جہان کا ایک دکھ ہے لیکن روح اور نفس کی آفت جہنم ابدی میں ڈالنے والی چیز ہے سو جس خدائے رحیم و کریم کو انسان کے اس جسم پر بھی رحم ہے جو آج ہے اور کل خاک ہو جائے گا اس کی نسبت کیونکر گمان کر سکتے ہیں کہ اس کو انسان کی روح پر رحم نہیں ۔ پس اس نص قطعی اور یقینی سے ثابت ہے کہ رُوح القدس یا یوں کہو کہ اندرونی نگہبانی کا فرشتہ ہمیشہ نیک انسان کے ساتھ ایسا ہی رہتا ہے جیسا کہ اس کی بیرونی حفاظت کیلئے رہتا ہے۔ اس بات کا جواب کہ جبکہ روح القدس مقربوں سے خاص ہے تو عام لوگوں کو کیوں عطا ہوتا ہے اس آیت کے ہم مضمون قرآن کریم میں اور بہت سی آیتیں ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان کی تربیت اور حفاظت ظاہری و باطنی کیلئے اور نیز اس کے اعمال کے لکھنے کیلئے ایسے فرشتے مقرر ہیں کہ جو دائمی طور پر انسانوں کے پاس رہتے ہیں چنانچہ منجملہ ان کے یہ آیات ہیں ۔ مرتبہ تک پہنچتے ہیں تو پھر ہر ایک کا نگہبان کیونکر ہو سکتا ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ روح القدس کا کامل طور پر نزول مقربوں پر ہی ہوتا ہے مگر اس کی فی الجملہ تائید حسب مراتب محبت و اخلاص دوسروں کو بھی ہوتی ہے۔ ہماری تقریر مندرجہ بالا کا صرف یہ مطلب ہے کہ روح القدس کی اعلی تجلی کی یہ کیفیت ہے کہ جب بقا اور لقا کے مرتبہ پر محبت الہی انسان کی محبت پر نازل ہوتی ہے تو یہ اعلیٰ تحتی روح القدس کی ان دونوں محبتوں کے ملنے سے پیدا ہوتی ہے جس کے مقابل پر دوسری تجلیات کا اعدم ہیں مگر یہ تو نہیں کہ دوسری تجلیات کا وجود ہی نہیں خدا تعالیٰ ایک ذرہ محبت خالصہ کو بھی ضائع نہیں کرتا۔ انسان کی محبت پر اس کی محبت نازل ہوتی ہے اور اسی مقدار پر روح القدس