ایک غلطی کا اِزالہ — Page 220
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۱۶ ایک غلطی کا ازالہ ثابت ہورہا ہے جیسا کہ آیت وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ سے ظاہر ہے اس آیت میں ایک لطافت بیان یہ ہے کہ اس گروہ کا ذکر تو اس میں کیا گیا جو صحابہ میں سے ٹھہرائے گئے لیکن اس جگہ اس مورد بروز کا بتصریح ذکر نہیں کیا یعنی مسیح موعود کا جس کے ذریعہ سے وہ لوگ صحابہ ٹھہرے اور صحابہ کی طرح زیر تربیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سمجھے گئے ۔ اس ترک ذکر سے یہ اشارہ مطلوب ہے کہ مورد بروز حکم نفی وجود کا رکھتا ہے اس لئے اس کی بروزی نبوت اور رسالت سے مُہر ختمیت نہیں ٹوٹتی۔ پس آیت میں اس کو ایک وجود منفی کی طرح رہنے دیا اور اس کے عوض میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کر دیا ہے اور اسی طرح آیت إِنَّا أَعْطَيْنَكَ الْكَوْثَرَ میں ایک بروزی وجود کا وعدہ دیا گیا جس کے زمانہ میں کوثر ظہور میں آئے گا یعنی دینی برکات کے چشمے بہہ نکلیں گے اور بکثرت دنیا میں بچے اہل اسلام ہو جائیں گے۔ اس آیت میں بھی ظاہری اولاد کی ضرورت کو نظر تحقیر سے دیکھا اور بروزی اولاد کی پیشگوئی کی گئی۔ اور گوخدا نے مجھے یہ شرف بخشا ہے کہ میں اسرائیلی بھی ہوں اور فاطمی بھی اور دونوں خونوں سے حصہ رکھتا ہوں لیکن میں روحانیت کی نسبت کو مقدم رکھتا ہوں جو بروزی نسبت ہے۔ اب اس تمام تحریر سے مطلب میرا یہ ہے کہ جاہل مخالف میری نسبت الزام لگاتے ہیں کہ یہ شخص نبی یا رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ مجھے ایسا کوئی دعویٰ نہیں ۔ میں اس طور سے جو وہ خیال کرتے ہیں نہ نبی ہوں نہ رسول ہوں۔ ہاں میں اس طور سے نبی اور رسول ہوں جس طور سے ابھی میں نے بیان کیا ہے۔ پس جو شخص میرے پر شرارت سے یہ الزام لگاتا ہے جو دعویٰ نبوت اور رسالت کا کرتے ہیں وہ جھوٹا اور ناپاک خیال ہے۔ مجھے بروزی صورت نے نبی اور رسول بنایا ہے اور اسی بنا پر خدا نے بار بار میرا نام نبی اللہ اور رسول اللہ رکھا مگر بروزی صورت میں ۔ میر انفس درمیان نہیں ہے بلکہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے اسی لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد ہوا۔ پس نبوت اور رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی محمد کی چیز محمد کے پاس ہی رہی ، علیہ الصلوۃ والسلام ۔ خاکسار میرزا غلام احمد از قادیاں ۔ ۵/ نومبر ۱۹۰۱ء اشتہار کتاب آیات الرحمان مطبوعہ ضیاء الاسلام پر لیں ۔ قادیان سیه قابل قدر کتاب مکر می مولوی سید محمد احسن صاحب نے کتاب عصائے موسیٰ کے رد میں لکھی ہے اور مصنف عصائے موسیٰ کے اوہام کا ایسا استیصال کر دیا ہے کہ اب اُس کو اپنی وہ کتاب ایک دردانگیز عذاب محسوس ہوگی۔ یہ تجویز قرار پائی ہے کہ اس کے چھپنے کے لئے اس طرح پر سر ما یہ جمع ہو کہ ہر ایک صاحب جو خریدنا چاہیں ایک روپیہ جو اس کتاب کی قیمت ہے بطور پیشگی روانہ کر دیں۔ یہ خواہش ہے کہ جلد تر یہ کتاب چھپ جائے اس لئے یہ انتظام کیا گیا ہے۔ والسلام خاکسار میرزا غلام احمد عفی عنہ الجمعة : ٢ الكوثر :٢