ایک غلطی کا اِزالہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 215 of 822

ایک غلطی کا اِزالہ — Page 215

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۱۱ ایک غلطی کا ازالہ باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے رسول اور نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعت کے۔ اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے سو اب بھی میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا ۔ اور میرا یہ قول کہ د و من نیستم رسول و نیاورده ام کتاب اس کے معنی صرف اس قدر ہیں کہ میں صاحب شریعت نہیں ہوں ۔ ہاں یہ بات بھی یا درکھنی چاہیے اور ہرگز فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ میں باوجود نبی اور رسول کے لفظ کے ساتھ پکارے جانے کے خدا کی طرف سے اطلاع دیا گیا ہوں کہ یہ تمام فیوض بلا واسطہ میرے پر نہیں ہیں بلکہ آسمان پر ایک پاک وجود ہے جس کا روحانی افاضہ میرے شامل حال ہے یعنی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ۔ اس واسطہ کو محوظ رکھ کر اور اس میں ہو کر اور اس کے نام محمد اور احمد سے مسٹمی ہو کر میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں یعنی بھیجا گیا بھی اور خدا سے غیب کی خبریں پانے والا بھی ۔ اور اس طور سے خاتم النبیین کی مہر محفوظ رہی کیونکہ میں نے انعکاسی اور ظلمی طور پر محبت کے آئینہ کے ذریعہ سے وہی نام پایا۔ اگر کوئی شخص اس وحی الہی پر ناراض ہو کہ کیوں خدا تعالیٰ نے میرا نام نبی اور رسول رکھا ہے تو یہ اس کی حماقت ہے کیونکہ میرے نبی اور رسول ہونے سے خدا کی مہر نہیں ٹوٹتی یہ بات ظاہر ہے کہ جیسا کہ میں اپنی نسبت کہتا ہوں کہ خدا نے مجھے رسول اور نبی کے نام سے پکارا ہے ایسا ہی ہ یہ کیسی عمدہ بات ہے کہ اس طریق سے نہ تو خاتم انہین کی پیشگوئی کی مہر ٹوٹی اور نہ اُمت کے کل افراد مفہوم نبوت سے جو آیت لَا يُظهِرُ عَلَى غَيْبة کے مطابق ہے محروم رہے مگر حضرت عیسی کو دوبارہ اُتارنے سے جن کی نبوت اسلام سے چھ سو برس پہلے قرار پا چکی ہے اسلام کا کچھ باقی نہیں رہتا اور آیت خاتم العمیقین کی صریح تکذیب لازم آتی ہے۔ اس کے مقابل پر ہم صرف مخالفوں کی ے گالیاں سنیں گے ۔ سو گالیاں دیں ۔ وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا لَى مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ من الجن : ۲۷ الشعراء: ۲۲۸ منه