ایک غلطی کا اِزالہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 212 of 822

ایک غلطی کا اِزالہ — Page 212

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۰۸ ایک غلطی کا ازالہ اس پر ظلتی طور پر وہی نبوت کی چادر پہنائی جاتی ہے جو نبوت محمدی کی چادر ہے۔ اس لئے اس کا نبی ہونا غیرت کی جگہ نہیں کیونکہ وہ اپنی ذات سے نہیں بلکہ اپنے نبی کے چشمہ سے لیتا ہے اور نہ اپنے لئے بلکہ اسی کے جلال کے لئے ۔ اس لئے اس کا نام آسمان پر محمد اور احمد ہے۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ محمد کی نبوت آخر محمد کو ہی ملی گو بروزی طور پر مگر نہ کسی اور کو ۔ پس یہ آیت کہ مَا كَانَ مُحَمَّدٌ آبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ اس کے معنی یہ ہیں که لَيْسَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِ الدُّنْيَا وَلَكِنْ هُوَابٌ لِرِجَالِ الْآخِرَةِ لِأَنَّهُ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَلَا سَبِيلَ إِلى فُيُوْضِ اللَّهِ مِنْ غَيْرِ تَوَسُّطه غرض میری نبوت اور رسالت باعتبار محمد اور احمد ہونے کے ہے نہ میرے نفس کے رو سے اور یہ نام بحیثیت فنافی الرسول مجھے ملا لہذا خاتم العین کے مفہوم میں فرق نہ آیا لیکن میسی کے اترنے سے ضرور فرق آئے گا۔ اور یہ بھی یادر ہے کہ نبی کے معنی لغت کے رو سے یہ ہیں کہ خدا کی طرف سے اطلاع پا کر غیب کی خبر دینے والا ۔ پس جہاں یہ معنی صادق آئیں گے نبی کا لفظ بھی صادق آئے گا۔ اور نبی کا رسول ہونا شرط ہے کیونکہ اگر وہ رسول نہ ہو تو پھر غیب مصفی کی خبر اس کو مل نہیں سکتی اور یہ آیت روکتی ہے لا يُظهِرُ عَلى غَيْبِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ ۔ اب اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان معنوں کے رو سے نبی سے انکار کیا جائے تو اس سے لازم آتا ہے کہ یہ عقیدہ رکھا جائے کہ یہ امت مکالمات و مخاطبات الہیہ سے بے نصیب ہے کیونکہ جس کے ہاتھ پر اخبار غیبیہ منجانب اللہ ظاہر ہوں گے بالضرورت اس پر مطابق آیت لَا يُظهِرُ عَلَى غَيْبة کے مفہوم نبی کا صادق آئے گا۔ اسی طرح جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا جائے گا اس کو ہم رسول کہیں گے ۔ فرق درمیان یہ ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک ایسا نبی کوئی نہیں جس پر جدید شریعت نازل ہویا جس کو بغیر توسط آنجناب اور ایسی فنافی الرسول کی حالت کے جو آسمان پر اس کا نام محمد اور احمد الاحزاب : ۴۱ الجن : ۲۸،۲۷