ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 545 of 598

ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 545

جب عیسیٰ لدھیانہ میں آئے گا تو ایک سخت کال پڑے گا ۳۸۵ گلاب شاہ اور نعمت اللہ شاہ ولی کی پیشگوئی حسب منشا قرآن کریم کے نشان صریح ہیں ۳۹۵ م۔ن مالک ‘ امام ۹۹‘۱۰۰‘۱۰۷ مبرّد ۲۶۸ محکم الدین مولوی مختار امرتسر ۳۳۷ محمدمصطفی ﷺحضرت خاتم النبیین آپؐ سب سے بلند مقام پر ہیں ۵۰۱ آپؐ کو بصیرت کاملہ کے ساتھ اپنی نبوت پریقین تھا ۴۲۶ بنی نوع پر اپنے نفس کو فدا کرنے والے فرد کامل ۴۷۶ آپؐ کی پیشگوئیاں جو احادیث میں بیان ہوئیں وہ بائیبل کے نبیوں سے ہزار حصہ زیادہ ہیں ۴۵۷ آپؑ کی پیشگوئیاں اور اعجازات انجیل سے ہزارہا درجہ بڑھ کر ہیں ۴۶۶ آنحضور ؐ کے معجزات اور ذاتی کردار نبوت صادقہ کی شناخت کیلئے کافی نشان ہے عیسائی مؤلفین کا اقرار ۴۵ آپؐ کے معجزات او رپیشگوئیاں ہزاروں کی تعداد میں ہیں ۴۴۵ آپؐ کی اتباع کے بغیر محبوبیت ‘قبولیت اور ولایت حقہ کا درجہ ہرگز حاصل نہیں ہو سکتا ۴۸۰ انجیل برنباس آپؐ کے آنے کی صریح بشارت دیتی ہے ۴۶۷ آپؐ کے صحابہ روحانی تربیت میں مسیح کے حواریوں سے بہت آگے تھے (پادری ٹیلر) ۴۵۲ صحابہ میں پاک تبدیلی ایک معجزہ ہے ۴۴۷ ظہور نشان میں کوئی آریہ‘ عیسائی یا یہودی آپؐ کے متبع کامل کا مقابلہ نہیں کر سکتا ۴۸۱ اہل مکہ نے بالآخر آنحضورؐ کے معجزات تسلیم کر کے مان لیا ۴۳۱ آپؐ کے نشانات کا غلط مطلب لے کر کفار نے آپؐ کا نام ساحر رکھا ۴۳۲ حالت کفر میں بھی ا ہل مکہ آنحضور ؐ کے نشانات سے کلی انکار نہ کرتے تھے ۴۳۲ کفار مکہ آپؐ سے تین قسم کے نشانات مانگا کرتے تھے ۴۳۳ کفار کا شرطیں لگا کر نشانات مانگنا آپؐ کے معجزات ونشانات پر کھلی دلیل ہیں ۴۳۴ وحی مجمل میں اجتہاد کیا کرتے تھے ۲۷ آپؐ نے امت میں ہر صدی میں مجدد اور چودھویں صدی کیلئے عظیم الشان مہدی کی پیشگوئی فرمائی ۳۷۸ عبداللہ جیمز عیسائی کا سوال کہ آنحضورؐاپنی نبوت کے بارہ متشکک تھے ۴۱۹ عبداللہ جیمزکاکہنا کہ آنحضور ؐ کو کوئی معجزنہیں ملا ۴۱۹ عبداللہ جیمز عیسائی کا تیسرا اعتراض کہ آنحضورؐ سوالات کے جواب دینے سے لاچار اور محدود علم والے تھے اس لئے پیغمبر نہ تھے ۴۲۰ قرآن میں آنحضور ؐ کو خطاب کر کے اصل مراد امت ہوتی ہے یہی محاورہ توراۃ میں بھی ہے ۴۲۵ محمد صاحب مولوی لکھو کے ۱۲۶ محمد صاحب عرب ان کی طرف سے دو روپیہ برائے نشانی آسمانی ۴۰۶ محمد احسن امروہی ‘ حضرت سید مولوی ۱۳۳‘۱۷۸‘۳۰۷‘۴۱۲ مباحثہ الحق دہلی کے سلسلہ میں مولوی محمد بشیر بھوپالی صاحب سے مراسلت ۲۲۱ ایک فاضل جلیل القدر اور امین اور متقی اور محبت اسلام میں فنا شد ہیں ۴۰۸ بطور واعظ مقرر کرنے کی تجویز اور ان کے گزارہ الاؤنس کیلئے چندہ کی تحریک کا اشتہار ۴۰۸ حضرت مولوی صاحب کی منشی بوبہ شاہ صاحب اور منشی محمداسحق صاحب کے مابین مراسلت نمبر۲ بسلسلہ مباحثہ دہلی ۴۸۳ محمد احسن بھوپالویؓ ۶۹ محمد اسحق منشی آپ کی مولوی سید محمد احسن امروہی کے مابین مراسلت سلسلہ الحق مباحثہ دہلی ۴۸۳