ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 530
انجیل میں مسیح کو خدا کا برّہ لکھا ہے ۴۵۸ الوہیت مسیح کی اوّل دلیل یہی ہے کہ مسیح ابن مریم اب تک آسمان پر زندہ بیٹھا ہے ۳۶۷ عیسوی معجزات کی حقیقت ۴۶۳ عیسائیوں کا اعتراف ہے کہ بعض جعلی انجیلیں تالیف ہوئیں ۴۶۷ بارہ انجیلیں جعلی اور مروجہ چار کے صحیح ہونے کا کیا ثبوت ہے ۴۶۷ انجیل کی راہنمائی سے یورپ امریکہ کے سوچنے والے لوگ دہریہ رہنا زیادہ پسند کرتے ہیں ۴۶۸ امریکہ یورپ میں عیسائی خیالات سے بے زاری ۴۶۹ مسیح کی بیان کردہ ایمان کی نشانیوں میں سے عیسائیوں میں کوئی نہیں پائی جاتی ۴۶۹ عیسائیوں کی تعلیم ایک نیا خدا پیش کر رہی ہے ۴۷۰ عیسائیوں کے خدا کی موت کا نتیجہ دیکھئے گا تو کچھ بھی نہیں ۴۷۱ عیسائیوں میں بگاڑ‘ صرف برطانیہ میں تیرہ کروڑ ساٹھ ہزار پاؤنڈ شراب پر خرچ ہوتا ہے ۴۷۱ کفارہ کے عقیدہ سے شراب نوشی اور زناکاری بکثرت ہوگئی ۴۷۳ عقیدہ کفارہ کے بدنتائج ۴۷۱‘۴۷۲ کفارہ ہی منظور ہوتا تو مسیح ساری رات رورو کر کیوں دعائیں کرتے رہے ۴۷۴ پادری فنڈر کا کہنا کہ عیسائیوں کے کثرت گناہ کی وجہ سے محمدؐ بطور سزا بھیجے گئے ۴۷۳ ایک عیسائی عبداللہ جیمز کے آنحضورؐ کے بارے تین اعتراضات اور ان کے جوابات ۴۱۹ تحویل کعبہ کے بارہ میں انجیل میں بطور پیشگوئی اشارات ہو چکے تھے ۴۲۱ حیات مسیح اور وفات مسیح کے عقائد کی تفصیل کیلئے دیکھئے ’’حیات مسیح‘‘ اور ’’وفات مسیح ‘‘ علم اصول فقہ کی رو سے وفات مسیح کا استدلال ۲۳۳‘۲۳۴ فارسی اقوال و اشعار نفس در آئینہ آ ہنیں کند تاثیر ۴۰ علم آن بود کہ نور فراست رفیق اوست ۵۶ آنکس کہ خود ضعف و مرض لاغری کند ۸۶ ندارد کسے باتو ناگفتہ کار ۱۰۳ پشیمان شوازاں عجلت کر دی ۱۰۷ تیر از کمان جستہ باز بدست نمے آید ۱۱۴ چہ عقل است صد سال اندوختن ۱۱۶ نام احمدؐ نام جملہ انبیاء است ۲۱۱ اے بسا آرزو کہ خاک شدہ ۲۲۳ اینکہ می بینم بہ بیداریست یارب یا بخواب ۲۲۳ نہان کے ماند آن رازے کزوسا زند محفلہا ۲۲۴ آن قدح بشکست وآن ساقی نماند ۲۲۵ چہ نسبت خاک رابا عالم پاک ۲۲۷ نام نیک رفتگان ضائع مکن ۲۳۹ عدو شودسبب خیر گر خدا خواہد ۲۵۳ آن توئی کہ بے بدن داری بدن ۲۶۳ اے خداوند رہنمائے جہاں ۳۱۱ چہ خوش بود کہ برآیدبیک کرشمہ دوکار ۲۶۷ چو کفر از کعبہ برخیز وکجاماند مسلمانی ۲۶۹ این کار از تو آید و مردان چنیں کنند ۲۷۴ گفتہ گفتہ من شدم بسیار گو ۲۷۹ گندم از گندم بروئید جوز جو ۳۲۰ گرخدا از بندہ خوشنود نیست ۳۳۴ اکنون ہزار عذر بیاری گناہ را ۳۳۶ غافل مشوگر عاقلی دریاب گر صاحب دلی ۳۳۶ سرکہ نہ درپائے عزیزش رود ۳۳۸ ہماں بہ کہ جان دررہ او فشانم ۳۴۰ چو بشنوی سخن اہل دل مگوکہ خطا است ۳۴۳ قدرت کردگارمے بینم ۳۵۷