ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 513
صفحہ ۴۲۲۔اے بدگمانی میں مبتلا انسان اور اے بد زبانی پر مستعد شخص۔میں تو اس غم سے جل رہا ہوں کہ تو کس طرح مسلمان ہو گا مگر عجیب بات یہ ہے کہ الٹا تو مجھے ہی کافر سمجھتا ہے۔اگر آدمی خود ہی تلاش حق میں ُسست نہ ہو تو خدا آپ طالب حق کو راستہ دکھا دیتا ہے۔خدا کی رحمت جو اولیاء اللہ کا تعویذ ہے وہ خلقت کی لعنت کے نیچے مخفی ہوا کرتی ہے صفحہ ۴۲۷۔تا جس کا جھوٹ ثابت ہوجائے اس کا منہ کالا ہو صفحہ ۴۲۹۔اے بخشش کی کان تیرا انکار کرنا موجب کفر ہے اور یہ فتاوے اور مہریں بہشت کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔میری خواہش ہے کہ میری جان و مال تیری راہ میں فدا کروں اور میری یہ تمنا خدائے کارساز و قادر ضرور پوری کرے گا۔میرے چہرے کی رونق تیری ہی وجہ سے ہے اس لئے ادھر ادھر کی باتیں چھوڑ۔اے میری پرورش کرنے والے دین کے راہبر ! میں تیرے چہرے پر قربان۔دین مردہ تیرے دم سے زندہ ہوگیا تو اے میرے محترم ! میں کیوں کر ان (مبارک) سانسوں سے روگردانی کروں۔میں کہاں اور یہ بدعہدی اور گمراہی کہاں۔میں تو جب تک زندہ ہوں خادم ہوں اور دل و جان سے خادم ہوں۔مجھ پر ان راہ حق کے لٹیروں نے کئی حملے کئے ہیں۔اگر خدا کا لطف میرے شامل حال نہ ہوتا تو وہ سب لوٹ کر لے جاتے۔ان یہود صفت (علماء) نے تیری قدر کو نہیں پہچانا اور مسیح ناصری کی مانند تو نے طعنے سنے۔جو بھی تیری تکفیر کرتا ہے وہ اسی وقت کافر ہوجاتا ہے اور خدا مجھے اس رذیل گروہ سے بچائے رکھے۔مجھ اندھے پر بھی اے روشن سورج کرم کردے اور اگر مجھ میں کوئی غلطی دیکھیں تو اس سے صرف نظر کردیں کیونکہ میں معافی کا طلب گار ہوں