ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 505 of 598

ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 505

روحانی خزائن جلد۴ ۵۰۵ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات سکتا۔ اور سچے متبع کے مقابل پر اگر کوئی عیسائی یا آریہ یا یہودی قبولیت کے آثار وانوار دکھلانا چاہے تو یہ اس کے لئے ہرگز ممکن نہ ہوگا اور نہایت صاف طریق امتحان کا یہ ہے کہ ۲۸ اگر ایک مسلمان صالح کے مقابل پر جو سچا مسلمان اور سچائی سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا متبع ہو کوئی دوسرا شخص عیسائی وغیرہ معارضہ کے طور پر کھڑا ہو اور یہ کہے کہ جس قدر تجھ پر آسمان سے کوئی نشان ظاہر ہوگا، یا جس قدر اسرار غیبیہ تجھ پرکھلیں گے، یا جو کچھ قبولیت دعاؤں سے تجھے مدد دی جائے گی، یا جس طور سے تیری عزت اور شرف کے اظہار کے لئے کوئی نمونہ قدرت ظاہر کیا جائے گا، یا اگر انعامات خاصہ کا بطور پیش گوئی تجھے وعدہ دیا جائے گا، یا اگر بقیه حاشیه :- انسانی نقش کے مٹادینے کی غرض سے نہیں جیسا کہ ہمارے مخالف عیسائی و آریہ خیال کرتے ہیں بلکہ اس غرض سے ہے کہ تا انسانی فطرت کے نقوش ظاہر و باطناً بطور کامل چمکیں اور سب بے اعتدالیاں دور ہو کر ٹھیک ٹھیک وہ امور جلوہ نما ہو جائیں جو انسان کے لئے بلحاظ ظاہری و باطنی خلقت اس کی کے ضروری ہیں۔ اور پھر فرمایا کہ جب میرے مخصوص بندے ( جو برگزیدہ ہیں ) میرے بارہ میں سوال کریں اور پوچھیں کہ کہاں ہے تو انہیں معلوم ہو کہ میں بہت ہی قریب ہوں۔ اپنے مخلص بندوں کی دعا سنتا (۳۸) ہوں جب ہی کہ کوئی مخلص بندہ دعا کرتا ہے (خواہ دل سے یا زبان سے ) سن لیتا ہوں (پس اس سے قرب ظاہر ہے) مگر چاہئے کہ وہ ایسی اپنی حالت بنائے رکھیں جس سے میں ان کی دعائن لیا کروں۔ یعنی انسان اپنا حجاب آپ ہو جاتا ہے۔ جب پاک حالت کو چھوڑ کر دور جا پڑتا ہے تب خدائے تعالیٰ بھی اُس سے دور ہو جاتا ہے اور چاہیئے کہ ایمان اپنا مجھ پر ثابت رکھیں ( کیونکہ قوت ایمانی کی برکت سے دُعا جلد قبول ہوتی ہے ) اگر وہ ایسا کریں تو رُشد حاصل کر لیں گے یعنی ہمیشہ خدائے عزو جل اُن کے ساتھ ہوگا۔ اور کبھی عنایت و ر ہنمائی الہی اُن سے الگ نہیں ہو گی۔ سو استجاب دعاء بھی اولیاء اللہ کے لئے ایک بھاری نشان ہے۔ فتدبر ۔ منہ