ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 504 of 598

ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 504

روحانی خزائن جلده ۵۰۴ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات اب جاننا چاہئے کہ محبوبیت اور قبولیت اور ولایت حلقہ کا درجہ جس کے کسی قدر مختصر طور پر نشان بیان کر چکا ہوں۔ یہ بجز اتباع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہرگز حاصل نہیں ہو (۴۷) بقیه حاشیه :- ضرور حصہ ملتا ہے اور ان کی ولایت کا بھاری نشان یہی ہے کہ مکالمات و مخاطبات الہیہ سے مشرف ہوں (یہی قانونِ قدرت اللہ جل شانہ کا ہے ) کہ جو لوگ ارباب متفرقہ سے منہ پھیر کر اللہ جل شانہ کو اپنا رب سمجھ لیں اور کہیں کہ ہمارا تو ایک اللہ ہی رب ہے ( یعنی اور کسی کی ربوبیت پر ہماری نظر نہیں ) اور پھر آزمائشوں کے وقت میں مستقیم رہیں (کیسے ہی زلزلے آویں، آندھیاں چلیں، تاریکیاں پھیلیں ان میں ذرا تزلزل اور تغیر اور اضطراب پیدا نہ ہو پوری پوری استقامت پر رہیں ) تو ان پر فرشتے اترتے ہیں (یعنی الہام یا رویائے صالحہ کے ذریعہ سے انہیں بشارتیں ملتی ہیں ) کہ دنیا اور آخرت میں ہم تمہارے دوست اور متوئی اور مشکل ہیں اور آخرت میں جو کچھ تمہارے جی چاہیں گے وہ سب تمہیں ملے گا۔ یعنی اگر دنیا میں کچھ مکروہات بھی پیش آویں تو کوئی اندیشہ کی بات نہیں کیونکہ آخرت میں تمام غم دور ہو جائیں گے اور سب مرادیں حاصل ہوں گی۔ اگر کوئی کہے کہ یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ آخرت میں جو کچھ انسان کا نفس چاہے اس کو مطلے میں کہتا ہوں کہ یہ ہونا نہایت ضروری ہے اور اسی بات کا نام نجات ہے ورنہ اگر انسان نجات پا کر بعض چیزوں کو چا ہتارہا اور ان کے غم میں کباب ہوتا اور جلتا رہا مگر وہ چیزیں اس کو نہ ملیں تو پھر نجات کا ہے کی ہوئی۔ ایک قسم کا عذاب تو ساتھ ہی رہا۔ لہذا ضرور ہے کہ جنت یا بہشت یا مکتی خانہ یا سرگ جو نام اس مقام کا رکھا جائے جو انتہا سعادت پانے کا گھر ہے وہ ایسا گھر چاہئے کہ انسان کو من کل الوجوہ اس میں مصفا خوشی حاصل ہو اور کوئی ظاہری یا باطنی رنج کی بات درمیان نہ ہو اور کسی نا کامی کی سوزش دل پر غالب نہ ہو۔ ہاں یہ بات سچ ہے کہ بہشت میں نالائق و نامناسب باتیں نہیں ہوں گی مگر مقدس دلوں میں اُن کی خواہش بھی پیدا نہ ہوگی بلکہ ان مقدس اور مطہر دلوں میں جو شیطانی خیالات سے پاک کئے گئے ہیں، انسان کی پاک فطرت اور خالق کی پاک مرضی کے موافق پاک خواہشیں پیدا ہوں گی۔ تا انسان اپنی ظاہری اور باطنی اور بدنی اور روحانی سعادت کو پورے پورے طور پر پالیوے اور اپنے جمیع قومی کے کامل ظہور سے کامل انسان کہلاوے کیونکہ بہشت میں داخل کرنا