ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 502 of 598

ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 502

روحانی خزائن جلده ۵۰۲ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات (۱) اول یہ کہ دعا کرنے والا ایک متقی اور راست باز اور کامل فرد ہوتا ہے۔ (۲) دوسرے یہ کہ بذریعہ مکالمات الہیہ اُس دعا کی قبولیت سے اس کو اطلاع دی جاتی ہے۔ (۳) تیسری یہ کہ اکثر وہ دعائیں جو قبول کی جاتی ہیں نہایت اعلیٰ درجہ کی اور پیچیدہ کاموں کے متعلق ہوتی ہیں، جن کی قبولیت سے کھل جاتا ہے کہ یہ انسان کا کام اور تدبیر نہیں بلکہ خدائے تعالیٰ کا ایک خاص نمونہ قدرت ہے جو خاص بندوں پر ظاہر ہوتا ہے۔ (۴) چوتھی یہ کہ ابتلائی دعا ئیں تو کبھی کبھی شاذ و نادر کے طور پر قبول ہوتی ہیں لیکن اصطفائی دعائیں کثرت سے قبول ہوتی ہیں۔ بسا اوقات صاحب اصطفائی دعا کا ایسی بڑی بڑی مشکلات میں پھنس جاتا ہے کہ اگر اور شخص ان میں مبتلا ہو جاتا تو بجز خودکشی کے اور کوئی حیلہ اپنی جان بچانے کیلئے ہرگز اسے نظر نہ آتا۔ چنانچہ ایسا ہوتا بھی ہے کہ جب کبھی دنیا پرست لوگ جو خدائے تعالی سے مہجور و دور ہیں بعض بڑی بڑی ہموم و عموم و أمراض و اسقام و بلیات لائیل میں مبتلا ہو جاتے ہیں تو آخر وہ بباعث ضعف ایمان خدائے تعالیٰ سے ناامید ہو کر کسی قسم کی زہر کھا لیتے ہیں یا کوئیں میں گرتے ہیں یا بندوق وغیرہ سے خود کشی کر لیتے ہیں لیکن ایسے نازک وقتوں میں صاحب اصطفاء کا بوجہ اپنی قوت ایمانی اور تعلق خاص کے خدائے تعالی کی طرف سے نہایت عجیب در عجیب مدد دیا جاتا ہے اور عنایت الہی ایک عجیب طور سے اس کا ہاتھ پکڑ لیتی ہے یہاں تک کہ ایک محرم راز کا دل بے اختیار بول اُٹھتا ہے کہ یہ شخص مؤید الہی ہے۔ (۵) پانچویں یہ کہ صاحب اصطفائی دعا کا مورد عنایات الہیہ کا ہوتا ہے اور خدائے تعالیٰ اس کے تمام کاموں میں اس کا متولی ہو جاتا ہے اور عشق الہی کا نور اور مقبولا نہ کبریائی کی