ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 499
روحانی خزائن جلد۴ ۴۹۹ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات بھی فدا کر دیتے ہیں یا قوم کے بچاؤ کے لئے جان کو معرض ہلاکت میں ڈالتے ہیں مگر نہ ایسے لغو اور بیہودہ طور پر جو مسیح کی نسبت بیان کیا جاتا ہے بلکہ جو شخص دانشمندانہ طور سے قوم کے لئے جان دیتا ہے یا جان کو معرض ہلاکت میں ڈالتا ہے وہ تو معقول اور پسندیدہ اور کار آمد اور صریح مفید طریقوں میں سے کوئی سے ایسا اعلیٰ اور بدیہی انکع طریقہ فدا ہونے کا اختیار کرتا ہے جس طریقے کے استعمال سے گو اس کو تکلیف پہنچ جائے یا جان ہی جائے مگر اُس کی قوم بعض بلاؤں سے واقعی طور پر بچ جائے یہ تو نہیں کہ پھانسی لے کر یا ز ہر کھا کر یا کسی کو ئیں میں گرنے سے خود کشی کا مرتکب ہو اور پھر یہ خیال کرے کہ میری خودکشی قوم کے لئے بہبودی کا موجب ہوگی ۔ ایسی حرکت تو دیوانوں کا کام ہے نہ عقلمندوں دینداروں کا بلکہ یہ موت موت حرام ہے اور بجز سخت جاہل اور سادہ لوح کے کوئی اس کا ارادہ نہیں کرتا۔ میں سچ کہتا ہوں کہ کامل اور او الوالعزم آدمی کا مرنا بجز اس حالت خاص کے کہ بہتوں کے بچاؤ کے لئے کسی معقول اور معروف طریق پر مرنا ہی پڑے قوم کے لئے اچھا نہیں بلکہ بڑی مصیبت اور ماتم کی جگہ ہے اور ایسا شخص جس کی ذات سے خلق اللہ کو طرح طرح کا فائدہ پہنچ رہا ہے اگر خود کشی کا ارادہ کرے تو وہ خدائے تعالیٰ کا سخت گنہگار ہے اور اس کا گناہ دوسرے ایسے مجرموں کی نسبت زیادہ ہے پس ہر ایک کامل کے لئے لازم ہے کہ اپنے لئے جناب باری تعالیٰ سے درازی عمر مانگے تو وہ خلق اللہ کے لئے ان سارے کاموں کو بخوبی انجام دے سکے جن کے لئے اُس کے دل میں جوش ڈالا گیا ہے۔ ہاں! شریر آدمی کا مرنا اس کے لئے اور نیز خلق اللہ کے لئے بہتر ہے تا شرارتوں کا ذخیرہ زیادہ نہ ہوتا جائے اور خلق اللہ اس کے ہر روز کے فتنہ سے تباہ نہ ہو جائے ۔ اور اگر یہ سوال کیا جائے که تمام پیغمبروں میں سے قوم کے بچاؤ کے لئے اور الہی جلال کے اظہار کی غرض سے