ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 498
روحانی خزائن جلد۴ ۴۹۸ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات بہت شراب پیتے تھے یا اگر بکثرت زنا کرتے تھے یا اگر پکے دنیا دار تھے تو مسیح کے مرنے کے بعد یہ ہر ایک قسم کے گناہ دور ہو جائیں گے کیونکہ یہ بات مستغنی عن الثبوت ہے کہ جس قدراب شراب خوری و دنیا پرستی و زنا کاری خاص کر یورپ کے ملکوں میں ترقی پر ہے کوئی دانا ہرگز خیال نہیں کر سکتا کہ مسیح کی موت سے پہلے یہی طوفان فسق و فجور کا بر پا ہورہا تھا بلکہ اس کا ہزارم حصہ بھی ثابت نہیں ہوسکتا اور انجیلوں پر غور کر کے بکمال صفائی کھل جاتا ہے کہ مسیح کو ہرگز منظور نہ تھا کہ یہودیوں کے ہاتھ میں پکڑا جائے اور مارا جائے اور صلیب پر کھینچا جائے کیونکہ اگر یہی منظور ہوتا تو ساری رات اس بلا کے دفعہ کرنے کیلئے کیوں روتا رہتا اور روروکر کیوں یہ دعا کرتا کہ اے ابا ! اے باپ !! تجھ سے سب کچھ ہو سکتا ہے یہ پیالہ مجھ سے ٹال دے۔ بلکہ سچ یہی ہے کہ مسیح بغیر اپنی مرضی کے ناگہانی طور پر پکڑا گیا اور اس نے مرتے وقت تک رو رو کر یہی دعا کی ہے کہ اے میرے خدا! اے میرے خدا! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ اس سے بوضاحت ثابت ہوتا ہے کہ مسیح زندہ رہنا اور کچھ اور دن دنیا میں قیام کرنا چاہتا تھا اور اس کی روح نہایت بے قراری سے تڑپ رہی تھی کہ کسی طرح اس کی جان بچ جائے لیکن بلا مرضی اس کے یہ سفر اس کو پیش آ گیا تھا اور نیز یہ بھی غور کرنے کی جگہ ہے کہ قوم کے لئے اس طریق پر مرنے سے جیسا کہ عیسائیوں نے تجویز کیا ہے ۔ مسیح کو کیا حاصل تھا اور قوم کو اُس سے کیا فائدہ؟ اگر وہ زندہ رہتا تو اپنی قوم میں بڑی بڑی اصلاحیں کرتا بڑے بڑے عیب اُن سے دور کر کے دکھاتا مگر اس کی موت نے کیا کر کے دکھایا بجز اس کے کہ اس کے بے وقت (۲۳) مرنے سے صد بافتنے پیدا ہوئے اور ایسی خرابیاں ظہور میں آئیں جن کی وجہ سے ایک عالم ہلاک ہو گیا ۔ یہ سچ ہے کہ جوانمر دلوگ قوم کی بھلائی کیلئے اپنی جان