ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 496 of 598

ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 496

روحانی خزائن جلد۴ ۴۹۶ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات جو قبل از مصلوبیت مسیح تھے اب بھی اُسی زور وشور میں ہیں بلکہ کچھ چڑھ ، بڑھ کر ۔ مثلا دیکھئے کہ اس زمانہ میں کہ جب ابھی مسیحیوں کا خدا زندہ تھا عیسائیوں کی حالت اچھی تھی جبھی کہ اس خدا پر موت آئی جس کو کفارہ کہا جاتا ہے۔ تبھی سے عجیب طور پر شیطان اس قوم پر سوار بقیه حاشیه کسی بُری مد میں شامل نہیں سمجھا گیا اور یہاں تک شراب نوشی کی علانیہ گرم بازاری ہے کہ میں نے بچشم خود ہنگام سیر لندن اکثر انگریزوں کو بازار میں پھرتے دیکھا کہ متوالے ہو رہے ہیں اور ہاتھ میں شراب کی بوتل ہے۔ على هذا القیاس - لندن میں عورتیں دیکھی جاتی تھیں کہ ہاتھ میں بوتل بیئر پکڑے لڑکھڑاتی چلی جاتی ہیں۔ بیسیوں لوگ شراب سے مدہوش اور متوالے، اچھے بھلے، بھلے مانس مہذب بازاروں کی نالیوں میں گرے ہوئے دیکھے۔ شراب نوشی کے طفیل اور برکت سے لندن میں اس قدر خود کشی کی وارداتیں واقعہ ہوتی رہتی ہیں کہ ہر ایک سال اُن کا ایک مہلک و با پڑتا ہے ( یکم فروری ۱۸۸۳ء۔ رہبر ہند لا ہور ) اسی طرح ایک صاحب نے لندن کی عام زنا کاری اور قریب ستر ستر ہزار کے ہر سال ولد الزنا پیدا ہونا ذکر کر کے وہ باتیں ان لوگوں کی بے حیائی کی لکھی ہیں کہ جن کی تفصیل سے قلم رکھتی ہے۔ بعض نے یہ بھی لکھا ہے کہ یورپ کے اول درجہ کے مہذب اور تعلیم یافتہ لوگوں کے (۴۱) اگر دس حصے کئے جائیں تو بلاشبہ نو حصے ان میں سے دہریہ ہوں گے جو مذہب کی پابندی اور خدائے تعالی کے اقرار اور جزا سزا کے اعتقاد سے فارغ ہو بیٹھے ہیں اور یہ مرض دہریت کا دن بدن یورپ میں بڑھتا جاتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ دولت بر طانیہ کی کشادہ دلی نے اس کی ترقی سے کچھ بھی کراہت نہیں کی ۔ یہاں تک کہ بعض کے وہر یہ پارلیمنٹ کی کرسی پر بھی بیٹھ گئے اور کچھ پرواہ نہیں کی گئی ۔ نامحرم لوگوں کو نو جوان عورتوں کا بوسہ لینا صرف جائز ہی نہیں بلکہ یورپ کی نئی تہذیب میں ایک مستحسن امر قرار دیا گیا ہے۔ کوئی دعویٰ سے نہیں کہہ سکتا کہ انگلستان میں کوئی ایسی عورت بھی ہے کہ جس کا عین جوانی کے دنوں میں کسی نامحرم جوان نے بوسہ نہ لیا ہو۔ دنیا پرستی اس قدر ہے کہ آروپ الیگزانڈر صاحب اپنی ایک چٹھی میں ( جو میرے نام بھیجی ہے ) لکھتے