ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 495 of 598

ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 495

روحانی خزائن جلد۴ ۴۹۵ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات صفت کو ظاہر نہیں کر سکتا اور نہ کسی قسم کا اپنی مخلوقات کو دنیا یا آخرت میں آرام پہنچا سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ کو اپنی رحمت بندوں پر نازل کرنے کیلئے خود کشی کی ضرورت ہے تو اُس سے لازم آتا ہے کہ ہمیشہ اس کو حادثہ موت کا پیش آتا رہے اور پہلے بھی بے شمار موتوں کا مزہ چکھ چکا ہو اور نیز لازم آتا ہے کہ ہندوؤں کے پرمیشر کی طرح معطل الصفات ہو ۔ اب خود ہی سوچو کہ کیا ایسا عاجز اور درماندہ خدا ہوسکتا ہے کہ جو بغیر خود کشی کے اپنی مخلوقات کو بھی اور کسی زمانہ میں کوئی بھلائی پہنچا نہیں سکتا ۔ کیا یہ (۲۰) حالت ضعف اور ناتوانی کی خدائے قادر مطلق کے لائق ہے؟ پھر عیسائیوں کے خدا کی موت کا نتیجہ دیکھئے تو کچھ بھی نہیں ۔ ان کے خدا کی جان گئی مگر شیطان کے وجو د اور اس کے کارخانہ کا ایک بال بھی بیکا نہ ہوا۔ وہی شیطان اور وہی اس کے چیلے جو پہلے تھے اب بھی ہیں۔ چوری، ڈکیتی، زنا، قتل، دروغ گوئی ، شراب خواری قمار بازی، دنیا پرستی ، بے ایمانی ، کفر شرک ، دہر یہ پن اور دوسرے صد با طرح کے جرائم (۴۱) ا تازہ اخبارات سے معلوم ہوا ہے کہ تیرہ کروڑ ساٹھ ہزار پاؤنڈ ہر سال سلطنت برطانیہ میں شراب (۲۰) کشی اور شراب نوشی میں خرچ ہوتا ہے (اور ایک نامہ نگار ایم اے کی تحریر ہے ) کہ شراب کی بدولت لندن میں صد ہا خود کشی کی وارداتیں ہو جاتی ہیں اور خاص لندن میں شاید منجملہ میں لاکھ آبادی کے دس ہزار آدمی مے نوش نہ ہوں گے، ورنہ سب مرد اور عورت خوشی اور آزادی سے شراب پیتے اور پلاتے ہیں ۔ اہل لندن کا کوئی ایسا جلسہ اور سوسائٹی اور محفل نہیں ہے کہ جس میں سب سے پہلے برانڈی اور شری اور لال شراب کا انتظام نہ کیا جاتا ہو۔ ہر ایک جلسہ کا جز واعظم شراب کو قرار دیا جاتا ہے اور طرفہ برآں یہ کہ لندن کے بڑے بڑے تقسیس اور پادری صاحبان بھی باوجود دیندار کہلانے کے مے نوشی میں اول درجہ ہوتے ہیں۔ جتنے جلسوں میں مجھ کو بطفیل مسٹر نکلیٹ صاحب شامل ہونے کا اتفاق ہوا ہے ان سب میں ضرور دو چار نوجوان پادری اور ریورنڈ بھی شامل ہوتے دیکھے۔ لندن میں شراب نوشی کو