ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 494
روحانی خزائن جلد۴ ۴۹۴ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات کو جب اس محک کی رو سے جانچا جائے تو صاف ثابت ہوتا ہے کہ اسلام وہ فطرتی مذہب ہے جس کے اصولوں میں کوئی تصنع اور تکلف نہیں اور جس کے احکام کوئی مستحدث اور بناوٹی امر نہیں اور کوئی ایسی بات نہیں جو ز بر دستی منوانی پڑے اور جیسا کہ خدائے تعالیٰ نے جابجا آپ فرمایا ہے۔ قرآن شریف صحیفہ فطرت کے تمام علوم اور اس کی صداقتوں کو یاد دلاتا ہے اور اس کے اسرار غامضہ کو کھولتا ہے اور کوئی نئے امور برخلاف اس کے پیش نہیں کرتا بلکہ در حقیقت اُسی کے معارف دقیقہ ظاہر کرتا ہے۔ برخلاف اس کے عیسائیوں کی تعلیم جس کا انجیل پر حوالہ دیا جاتا ہے ایک نیا خدا پیش کر رہی ہے جس کی خود کشی پر دنیا کے گناہ اور عذاب سے نجات موقوف اور اس کے دُکھ اُٹھانے پر خلقت کا آرام موقوف اور اس کے بے عزت اور ذلیل ہونے پر خلقت کی عزت موقوف خیال کی گئی ہے۔ پھر بیان کیا گیا ہے کہ وہ ایک ایسا عجیب خدا ہے کہ ایک حصہ اس کی عمر کا تو منزه عن الجسم و عن عیوب الجسم میں گزرا ہے اور دوسرا حصہ عمر کا کسی نا معلوم بدبختی کی وجہ سے ) ہمیشہ کو تجسم اور تحیر کی قید میں اسیر ہو گیا اور گوشت پوست استخوان وغیرہ سب کے سب اس کی روح کے لئے لازمی ہو گئے اور اس تجسم کی وجہ سے کہ اب ہمیشہ اس کے ساتھ رہے گا، انواع اقسام کے اس کو دکھ اُٹھانے پڑے آخر دکھوں کے غلبہ سے مر گیا اور پھر زندہ ہوا اور اسی جسم نے پھر آ کر اس کو پکڑ لیا اور ابدی طور پر اُسے پکڑے رہے گا۔ کبھی مخلصی نہیں ہوگی ۔ اب دیکھو کہ کیا کوئی فطرت صحیحہ اس اعتقاد کو قبول کر سکتی ہے؟ کیا کوئی پاک کانشنس اس کی شہادت دے سکتا ہے؟ کیا قانون قدرت کا ایک جزو بھی خدائے بے عیب و بے نقص و غیر متغیر کیلئے یہ حوادث و آفات روار کھ سکتا ہے کہ اس کو ہمیشہ ہر ایک عالم کے پیدا کرنے اور پھر اس کو نجات دینے کیلئے ایک مرتبہ مرنا درکار ہے اور بجز خودکشی اپنے کسی افاضہ خیر کی