ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 492 of 598

ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 492

روحانی خزائن جلده ۴۹۲ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات حالانکہ اس ساہوکار کی طرح جس کا روز نامچہ اور بہی کھاتہ بوجہ صریح تناقض اور مشکوکیت کے پوشیدہ حال کو ظاہر کر رہا ہو۔ ہر چہار انجیلوں سے وہ کارستانی ظاہر ہو رہی ہے جس کو انہوں نے چھپانا چاہا تھا۔ اسی وجہ سے یورپ اور امریکہ میں غور کرنے والوں کی طبیعتوں میں ایک طوفان شکوک پیدا ہو گیا ہے اور جس ناقص اور متغیر اور مجسم خدا کی طرف انجیل ۳۸ رہنمائی کر رہی ہے اس کے قبول کرنے سے وہ دہر یہ رہنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ چنانچہ میرے ایک دوست فاضل انگریز نے امریکہ سے بذریعہ اپنی کئی چٹھیوں کے مجھے خبر دی ہے کہ ان ملکوں میں دانشمندوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں کہ عیسائی مذہب کو نقص سے خالی سمجھتا ہو اور اسلام کے قبول کرنے کے لئے مستعد نہ ہو۔ اور گوعیسائیوں نے قرآن شریف کے ترجمے محرف اور بدنما کر کے یورپ اور امریکہ کے ملکوں میں شائع کئے ہیں مگر ان کے بقیہ حاشیہ : - پوری پوری انجیلیں بھی اپنی طرف سے بنا کر عام طور پر قوم میں انہیں شائع کر دیا اور ایک ذرہ پروں پر پانی پڑنے نہ دیا۔ تو کسی کتاب کا محرف مبدل کرنا اُن کے آگے کیا حقیقت تھا۔ پھر جب کہ یہ بھی تسلیم کر لیا گیا ہے کہ مسیح کے زمانہ میں یہ انجیلیں قلمبند نہیں ہوئیں بلکہ ساٹھ یا ستر برس مسیح کے فوت ہونے کے بعد یا کچھ کم و بیش یا اختلاف روایت اناجیل اربعہ کا مجموعہ دنیا میں پیدا ہوا تو اُس سے ان انجیلوں کی نسبت اور بھی شک پیدا ہوتا ہے۔ کیونکہ اس بات کا ثبوت دینا مشکل ہے کہ اس عرصہ تک حواری زندہ رہے ہوں یا اُن کی قوتیں قائم رہی ہوں۔ اب ہم سب قصوں کو مختصر کر کے ناظرین کو یہ باور دلاتے ہیں کہ اس بات کا عیسائیوں نے ہرگز صفائی سے ثبوت نہیں دیا کہ بارہ انجیلیں جعلی اور چار جن کو رواج دے رہے ہیں جعل اور تحریف سے مبرا ہیں بلکہ وہ ان چاروں کی نسبت بھی خود اقرار کرتے ہیں کہ وہ خالص خدائے تعالیٰ کا کلام نہیں اور اگر وہ ایسا اقرار بھی نہ کرتے تب بھی انجیلوں کے مغشوش ہونے میں کچھ شک نہیں تھا کیونکہ اس بات کا بار ثبوت اُن کے ذمہ ہے۔ جس سے آج تک وہ سبکدوش نہیں ہو سکے کہ کیوں دوسری انجیلیں جعلی اور یہ جعلی نہیں۔