ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 490
روحانی خزائن جلد ۴ ۴۹۰ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات روحیں اس قدر ہیں جن کا اندازہ کرنا مشکل ہے اسی وجہ سے ایک عالم تباہ ہو گیا اور ہوتا جاتا ہے۔ نادانوں نے ثبوت یا عدم ثبوت کے ضروری مسئلہ پر کچھ بھی غور نہیں کی اور انسانی منصوبوں اور بندشوں کا جو ایک مستمرہ طریقہ اور نیچر لی امر ہے جو نوع انسان میں قدیم سے چلا آتا ہے اس سے چوکس رہنا نہیں چاہا اور یونہی شیطانی دام کو اپنے پر لے لیا۔ مگاروں نے اس شریر کیمیا گر کی طرح جو ایک سادہ لوح سے ہزار روپیہ نقد لے کر دس بیس لاکھ کا سونا ۳۶ بنا دینے کا وعدہ کرتا ہے سچا اور پاک ایمان نادانوں کا کھویا اور ایک جھوٹی راستبازی اور جھوٹی برکتوں کا وعدہ دیا جن کا خارج میں کچھ بھی وجود نہیں اور نہ کچھ ثبوت ۔ آخر شرارتوں میں ، مکروں میں، دنیا پرستیوں میں نفس امارہ کی پیروی میں اپنے سے بدتر ان کو کر دیا۔ بالآخر یہ نکتہ یا درکھنے کے قابل ہے کہ اعجازات اور پیشگوئیوں کے بارے میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے وقوع میں آئیں قرآن شریف کی ایک ذرہ شہادت، انجیلوں کے ایک تو وہ عظیم سے جو مسیح کے اعجاز وغیرہ کے بارے میں ہو، ہزار ہا درجہ بڑھ کر ہے کیوں بڑھ کر ہے؟ اسی وجہ سے کہ خود با قرار تمام محقق پادریوں کے انجیلوں کا بیان خود حواریوں کا اپنا ہی کلام ہے اور پھر اپنا چشم دید بھی نہیں اور نہ کوئی سلسلہ راویوں کا پیش کیا ہے اور نہ کہیں ذاتی مشاہدہ کا دعویٰ کیا لیکن قرآن شریف میں اعجازات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ خاص خدائے صادق وقد وس کی پاک شہادت ہے۔ اگر وہ صرف ایک ہی آیت ہوتی تب بھی کافی ہوتی۔ مگر الْحَمْدُ لِلَّهِ کہ ان شہادتوں سے سارا قرآن شریف بھرا ہوا ہے۔ اب مواز نہ کرنا چاہئے کہ کجا خدائے تعالیٰ کی پاک شہادت جس میں کذب ممکن نہیں اور کجا نا دیدہ جھوٹ اور مبالغہ آمیز شہادتیں ۔۔ به نزدیک دانائے بیدار دل جوئے سیم بہتر ز صد تو ده گل