ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 489
روحانی خزائن جلده ۴۸۹ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات داخل ہیں اور الہام کے سلسلہ سے بکلی خارج ہیں اور الہامی عبارات سے بکلی ان کا تناقض پایا جاتا ہے۔ پس جب الہامی اور غیر الہامی عبارات میں تناقض ہو تو اس کے دور کرنے کیلئے بجز اس کے اور کیا تدبیر ہے کہ جو عبارتیں الہامی نہیں ہیں وہ نا قابل اعتبار مجھی (۳۵) جائیں اور صرف انجیل نویسوں کے مبالغات یقین نہ کئے جائیں؟ چنانچہ جا بجا ان کا مبالغہ کرنا ظاہر بھی ہے جیسا کہ یوحنا کی انجیل کی آخری آیت جس پر وہ مقدس انجیل ختم کی گئی ہے یہ ہے ۔ پر اور بھی بہت سے کام ہیں جو یسوع نے کئے اور اگر وہ عبد البدا لکھے جاتے تو میں گمان کرتا ہوں کہ کتا ہیں جو لکھی جاتیں دنیا میں سمانہ سکتیں“۔ دیکھو کس قدر مبالغہ ہے زمین و آسمان کے عجائبات تو دنیا میں سما گئے مگر مسیح کی تین یا اڑھائی برس کی سوانح دنیا میں سما نہیں سکتی ایسے مبالغہ کرنے والے لوگوں کی روایت پر کیونکر اعتبار کر لیا جاوے۔ ہندوؤں نے بھی اپنے اوتاروں کی نسبت ایسی ہی کتابیں تالیف کی تھیں اور اسی طرح خوب جوڑ جوڑ سے ملا کر جھوٹ کا پل باندھا تھا سو اس قوم پر بھی اس افترا کا نہایت قومی اثر پڑا اور اس سرے سے ملک کے اُس سرے تک رام رام اور کرشن کرشن دلوں میں رچ گیا ۔ بات یہ ہے کہ مرتب کردہ کتابیں جن میں بہت سا افتراء بھرا ہوا ہو ان قبروں کی طرح ہوتے ہیں جو باہر سے خوب سفید کی جائیں اور چمکائی جائیں پر اندر کچھ نہ ہو۔ اندر کا حال ان بے خبر لوگوں کو کیا معلوم ہو سکتا ہے جو صدہا برسوں کے بعد پیدا ہوئے اور بنی بنائی کتابیں ایسی متبرک اور بے لوث ظاہر کر کے ان کو دی گئیں کہ گویا وہ اسی صورت اور وضع کے ساتھ آسمان سے اتری ہیں سو وہ کیا جانتے ہیں کہ دراصل یہ مجموعہ کس طرح طیار کیا گیا ہے؟ دنیا میں ایسی تیز نگاہیں جو پردوں کو چیرتی ہوئی اندر گھس جائیں اور اصل حقیقت پر اطلاع پالیں اور چور کو پکڑ لیں بہت کم ہیں اور افتراء کے جادو سے متاثر ہونے والی