ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 486
روحانی خزائن جلد۴ ۴۸۶ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات ستارے زمین پر گر کر زمین والوں کو صفحہ ہستی سے بے نشان و نابود کریں گے تو مسیح کا یہ قول کہ تم مجھے بادلوں میں آسمان سے اترتا دیکھو گے کیونکر درست ہوگا ؟ جب لوگ ہزاروں ستاروں کے نیچے دبے ہوئے مرے پڑے ہوں گے تو مسیح کا اتر نا کون دیکھے گا ؟ اور زمین جوستاروں کی کشش سے ثابت و برقرار ہے کیونکر اپنی حالت صحیحہ پر قائم اور ثابت رہے گی اور مسیح کن برگزیدوں کو ( جیسا کہ انجیل میں ہے ) دور دور سے بلائے گا اور کن کوسر زنش اور تنبیہ کرے گا کیونکہ ستاروں کا گرنا تو بہ بداہت مستلزم عام فنا اور عام موت بلکہ تختہ زمین کے انقلاب کا موجب ہوگا۔ اب دیکھئے کہ یہ سب بیانات علم ہیئت کے برخلاف ہیں یا نہیں؟ ایسا ہی ایک اور اعتراض علم ہیئت کی رو سے انجیل پر ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ انجیل متی میں دیکھو وہ ستارہ جو انہوں نے ( یعنی مجوسیوں نے ) پورب میں دیکھا تھا ان کے آگے آگے چل رہا اور اس جگہ کے اوپر جہاں وہ لڑکا تھا جا کر ٹھہرا۔(باب۲۔ آیت ۹متی ) اب عیسائی صاحبان براہ مہربانی بتلاویں کہ علم ہیئت کی رو سے اس عجیب ستارہ کا کیا (۳۳) نام ہے جو مجوسیوں کے ہم قدم اور ان کے ساتھ ساتھ چلا تھا اور یہ کس قسم کی حرکت اور کن قواعد کی رو سے مسلم الثبوت ہے؟ مجھے معلوم نہیں کہ انجیل متی ایسے ستارہ کے بارے میں ہیئت والوں سے کیونکر پیچھا چھڑا سکتی ہے۔ بعض صاحب تنگ آ کر یہ جواب دیتے ہیں کہ یہ مسیح کا قول نہیں متی کا قول ہے۔ متی کے قول کو ہم الہامی نہیں جانتے ۔ یہ خوب جواب ہے جس سے انجیل کے الہامی ہونے کی بخوبی قلعی کھل گئی اور میں بطور تنزل کہتا ہوں کہ گو یہ مسیح کا قول نہیں متی یا کسی اور کا قول ہے مگر مسیح کا قول بھی تو ( جس کو الہامی مانا گیا ہے اور جس پر ابھی ہماری طرف سے اعتراض ہو چکا ہے ) اس کا ہم رنگ اور ہم شکل ہے ذرا اُسی کو اصول ہیئت سے مطابق کر کے دکھلائیے اور نیز یہ بھی یادر ہے کہ یہ قول الہامی نہیں بلکہ