ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 480 of 598

ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 480

روحانی خزائن جلد۴ ۴۸۰ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات خالق کے قطعی ارادہ کے آگے کیا پیش جاتی تھی مگر حضرت مسیح نے اپنی عاجزی اور بندگی کے اقرار کو نہایت حد تک پہنچا دیا۔ اس امید سے کہ شاید قبول ہو جائے ۔ اگر انہیں پہلے سے علم ہوتا کہ دعا رڈ کی جائے گی ہرگز قبول نہیں ہوگی تو وہ ساری رات برابر فجر تک اپنے بچاؤ کے لئے کیوں دعا کرتے رہتے اور کیوں اپنے تئیں اور اپنے حواریوں کو بھی تقید سے اس لا حاصل مشقت میں ڈالتے۔ سو بقول معترض صاحب ان کے دل میں یہی تھا کہ انجام خدا کو معلوم ہے مجھے معلوم نہیں۔ پھر ایسا ہی حضرت مسیح کی بعض پیشگوئیوں کا صحیح نہ نکلنا دراصل اسی وجہ سے تھا کہ ببا عث عدم علم بر اسرار مخفیہ اجتہادی طور پر تشریح کرنے میں اُن سے غلطی ہو جاتی تھی جیسا کہ آپ نے فرمایا تھا کہ جب نئی خلقت میں ابن آدم اپنے جلال کے تخت پر بیٹھے گا تم بھی (اے میرے بارہ حواریو ) بارہ تختوں پر بیٹھو گے۔ دیکھو باب ۱۹۔ آیت ۲۸ متی۔ لیکن اسی انجیل سے ظاہر ہے کہ یہودا اسکر یوطی اس تخت سے بے نصیب رہ گیا۔ اس کے کانوں نے تخت نشینی کی خبر سن لی مگر تخت پر بیٹھنا اُسے نصیب نہ ہوا اب راستی اور سچائی سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حضرت مسیح کو اس شخص کے مرتد اور بد عاقبت ہونے کا پہلے سے علم ہوتا تو کیوں اس کو تخت نشینی کی جھوٹی خوش خبری سناتے ۔ ایسا ہی ایک مرتبہ آپ ایک انجیر کا درخت دور سے دیکھ کر انجیر کھانے کی نیت سے اس کی طرف گئے مگر جا کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس پر ایک بھی انجیر نہیں تو آپ بہت ناراض ہوئے اور غصہ کی حالت میں اس انجیر کو بددعا دی جس کا کوئی بداثر انجیر پر ظاہر نہ ہوا۔ اگر آپ کو کچھ غیب کا علم ہوتا تو بے ثمر درخت کی طرف اس کا پھل کھانے کے ارادہ سے کیوں جاتے ۔ ایسا ہی ایک مرتبہ آپ کے دامن کو ایک عورت نے چھوا تھا تو آپ چاروں طرف