ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 480
روحانی خزائن جلد ۴ ۴۸۰ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات خالق کے قطعی ارادہ کے آگے کیا پیش جاتی تھی مگر حضرت مسیح نے اپنی عاجزی اور بندگی کے اقرار کو نہایت حد تک پہنچا دیا۔ اس امید سے کہ شاید قبول ہو جائے ۔ اگر انہیں پہلے ے علم ہوتا کہ دعارڈ کی جائے گی ہرگز قبول نہیں ہوگی تو وہ ساری رات برابر فجر تک ۲۸ سے علم ہوتا سے اپنے بچاؤ کے لئے کیوں دعا کرتے رہتے اور کیوں اپنے تئیں اور اپنے حواریوں کو بھی تقید سے اس لا حاصل مشقت میں ڈالتے ۔ سو بقول معترض صاحب ان کے دل میں یہی تھا کہ انجام خدا کو معلوم ہے مجھے معلوم نہیں۔ پھر ایسا ہی حضرت مسیح کی بعض پیشگوئیوں کا صحیح نہ نکلنا دراصل اسی وجہ سے تھا کہ باعث عدم علم بر اسرار مخفیہ اجتہادی طور پر تشریح کرنے میں اُن سے غلطی ہو جاتی تھی جیسا کہ آپ نے فرمایا تھا کہ جب نئی خلقت میں ابن آدم اپنے جلال کے تخت پر بیٹھے گا تم بھی (اے میرے بارہ حواریو) بارہ تختوں پر بیٹھو گے۔ دیکھو باب ۱۹۔ آیت ۲۸ میتی ۔ لیکن اسی انجیل سے ظاہر ہے کہ یہودا اسکر یوٹی اس تخت سے بے نصیب رہ گیا۔ اس کے کانوں نے تخت نشینی کی خبر سن لی مگر تخت پر بیٹھنا اُسے نصیب نہ ہوا اب راستی اور سچائی سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حضرت مسیح کو اس شخص کے مرتد اور بد عاقبت ہونے کا پہلے سے علم ہوتا تو کیوں اس کو تخت نشینی کی جھوٹی خوش خبری سناتے ۔ ایسا ہی ایک مرتبہ آپ ایک انجیر کا درخت دور سے دیکھ کر انجیر کھانے کی نیت سے اس کی طرف گئے مگر جا کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس پر ایک بھی انجیر نہیں تو آپ بہت ناراض ہوئے اور غصہ کی حالت میں اس انجیر کو بد دعا دی جس کا کوئی بداثر انجیر پر ظاہر نہ ہوا ۔ اگر آپ کو کچھ غیب کا علم ہوتا تو بے ثمر درخت کی طرف اس کا پھل کھانے کے ارادہ سے کیوں جاتے ۔ ایسا ہی ایک مرتبہ آپ کے دامن کو ایک عورت نے چھوا تھا تو آپ چاروں طرف