ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 479 of 598

ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 479

روحانی خزائن جلده ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات کی طرف ہی دیکھو کہ وہ کیونکر اپنی لاعلمی کا آپ اقرار کر کے کہتے ہیں کہ اُس دن اور اس گھڑی کی بابت سوا باپ کے نہ تو فرشتے جو آسمان پر ہیں، نہ بیٹا، کوئی نہیں جانتا۔ باب ۱۳۔ آیت ۳۲ مرقس ۔ اور پھر وہ فرماتے ہیں کہ میں آپ سے کچھ نہیں کرتا (یعنی کچھ نہیں کر سکتا ) مگر جو میرے باپ نے سکھلایا وہ باتیں کہتا ہوں ۔ کسی کو راستبازوں کے مرتبہ تک پہنچانا میرے اختیار میں نہیں ۔ مجھے کیوں نیک کہتا ہے نیک کوئی نہیں مگر ایک یعنی خدا۔ مرقس ہو۔ غرض کسی نبی نے با اقتدار یا عالم الغیب ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ دیکھو اس عاجز بندہ کی طرف جس کو مسیح کر کے پکارا جاتا ہے اور جسے نادان مخلوق پرستوں نے خدا سمجھ رکھا ہے کہ کیسے اس نے ہر مقام میں اپنے قول اور فعل سے ظاہر کر دیا کہ میں ایک ضعیف اور کمزور اور نا تواں بندہ ہوں اور مجھ میں ذاتی طور پر کوئی بھی خوبی نہیں اور آخری اقرار جس پر ان کا خاتمہ ہوا کیسا پیارے لفظوں میں ہے۔ چنانچہ انجیل میں یوں لکھا ہے کہ وہ یعنی مسیح اپنی گرفتاری کی خبر پا کر) گھبرانے اور بہت دلگیر ہونے لگا اور ان سے ( یعنی اپنے حواریوں سے ) کہا کہ میری جان کا غم موت کا سا ہے اور وہ تھوڑا آگے جا کر زمین پر گر پڑا ( یعنی سجدہ کیا ) اور دعا مانگی کہ اگر ہو سکے تو یہ گھڑی مجھ سے مل جائے اور کہا کہ اے ابا ! اے باپ ! سب کچھ تجھ سے ہو سکتا ہے۔ اس پیالہ کو مجھ سے ٹال دے۔ یعنی تو قادر مطلق ہے اور میں ضعیف اور عاجز بندہ ہوں۔ تیرے ٹالنے سے یہ بلائل سکتی ہے اور آخر ایلی ایلی لما سبقتنی کہہ کر جان دی جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اے میرے خدا ! اے میرے خدا !! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔“ اب دیکھئے کہ اگر چہ دعا تو قبول نہ ہوئی کیونکہ تقدیر مبرم تھی ۔ ایک مسکین مخلوق کی مرقس باب ۱۰ آیت ۱۸۔ (ناشر)