ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 478 of 598

ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 478

روحانی خزائن جلد۴ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات جائز نہیں اور جیسا ذات کی رو سے شریک الباری ممتنع ہے ایسا ہی صفات کی رو سے بھی ممتنع ہے۔ پس ممکنات کیلئے نظراً على ذاتهم عالم الغیب ہونا ممتنعات میں سے ہے۔ خواہ نبی ہوں یا محدث ہوں یا ولی ہوں، ہاں الہام الہی سے اسرار غیبیہ کو معلوم کرنا یہ ہمیشہ خاص اور برگزیدہ کو حصہ ملتا رہا ہے اور اب بھی ملتا ہے جس کو ہم صرف تابعین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں پاتے ہیں نہ کسی اور میں ۔ عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ وہ کبھی کبھی اپنے مخصوص بندوں کو اپنے بعض اسرار خاصہ پر مطلع کر دیتا ہے اور اوقات مقررہ اور مقدرہ میں رفح فیض غیب ان پر ہوتا ہے بلکہ کامل مقرب اللہ اسی سے آزمائے جاتے اور شناخت کئے جاتے ہیں کہ بعض اوقات آئندہ کی پوشیدہ باتیں یا کچھ چھپے اسرار انہیں بتلائے جاتے ہیں مگر یہ نہیں کہ ان کے اختیار اور ارادہ اور اقتدار سے بلکہ خدائے تعالیٰ کے ارادہ اور اختیار اور اقتدار سے یہ سب نعمتیں انہیں ملتی ہیں۔ وہ جو اس کی مرضی پر چلتے ہیں اور اُسی کے ہور ہتے اور اسی میں کھوئے جاتے ہیں اس خیر محض کی ان سے کچھ ایسی ہی عادت ہے کہ اکثر ان کی سنتا اور اپنا گزشتہ فعل یا آئندہ کا منشاء بسا اوقات ان پر ظاہر کر دیتا ہے مگر بغیر اعلام الہی انہیں کچھ بھی معلوم نہیں ہوتا وہ اگر چہ خدائے تعالیٰ کے مقرب تو ہوتے ہیں مگر خدا تو نہیں ہوتے سمجھائے سمجھتے ہیں، بتلائے جانتے ہیں، دکھلائے دیکھتے ہیں، بلائے بولتے ہیں اور اپنی ذات میں کچھ بھی نہیں ہوتے۔ جب طاقت عظمیٰ انہیں اپنے الہام کی تحریک سے بلاتی ہے تو وہ بولتے ہیں اور جب دکھلاتی ہے تو دیکھتے ہیں اور جب سناتی ہے تو سنتے ہیں اور جب تک خدائے تعالیٰ ان پر کوئی پوشیدہ بات ظاہر نہیں کرتا تب تک انہیں اس بات کی کچھ بھی خبر نہیں ہوتی ۔ تمام نبیوں کے حالات زندگی (لائف ) میں اس کی شہادت پائی جاتی ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام