ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 477
روحانی خزائن جلد۴ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی حالت رجوع الی اللہ و تو کل واستقامت ذاتی و تعلیم کامل و مطہر والقائے تاثیر و اصلاح خلق کثیر از مفسدین و تائیدات ظاہری و باطنی قادر مطلق کو ان معجزات سے الگ کر کے بھی دیکھیں جو بد منقول ان کی نسبت بیان کی جاتی ہیں تب بھی ہمارا انصاف اس اقرار کے لئے ہمیں مجبور کرتا ہے کہ یہ تمام امور جو اُن سے ظہور میں آئے یہ بھی بلا شبہ فوق العادت اور بشری طاقتوں سے بالاتر ہیں اور نبوت صحیحہ صادقہ کے شناخت کرنے کیلئے قومی اور کافی نشان ہیں۔ کوئی انسان جب تک اس کے ساتھ خدائے تعالیٰ نہ ہو بھی ان سب باتوں میں کامل اور کامیاب نہیں ہوسکتا اور نہ ایسی غیبی تائید میں اُس کے شامل ہوتی ہیں۔ تیسرے سوال کا جواب جن خیالات کو عیسائی صاحب نے اپنی عبارت میں بصورت اعتراض پیش کیا ہے وہ در حقیقت اعتراض نہیں ہیں بلکہ وہ تین غلط فہمیاں ہیں جو بوجہ قانت تدبر اُن کے دل میں ۲۶) پیدا ہوگئی ہیں۔ اول ہم الگ الگ ان غلط فہمیوں کو دور کرتے ہیں۔ پہلی غلط فہمی کی نسبت جواب یہ ہے کہ نبی برحق کی یہ نشانی ہر گز نہیں ہے کہ خدائے تعالیٰ کی طرح ہر ایک مخفی بات کا بالاستقلال اس کو علم بھی ہو بلکہ اپنے ذاتی اقتدار اور اپنی ذاتی خاصیت سے عالم الغیب ہونا خدائے تعالیٰ کی ذات کا ہی خاصہ ہے۔ قدیم سے اہل حق حضرت واجب الوجود کے علم غیب کی نسبت وجوب ذاتی کا عقیدہ رکھتے ہیں اور دوسرے تمام ممکنات کی نسبت امتناع ذاتی اور امکان بالواجب عزاسمہ کا عقیدہ ہے یعنی یہ عقیدہ کہ خدائے تعالیٰ کی ذات کے لئے عالم الغیب ہونا واجب ہے اور اس کی ہویت حقہ کی یہ ذاتی خاصیت ہے کہ عالم الغیب ہوگر ممکنات کے جو هالكة الذات اور باطلة الحقيقت ہیں اس صفت میں اور ایسا ہی دوسری صفات میں شراکت بحضرت باری عزّ اسمه