ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 475
روحانی خزائن جلد۴ ۴۷۵ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات مردوں سے باتیں کر کے دکھلا دیتے تھے اور دو دو تین تین سو بیماروں کو اپنے دائیں (۲۴) بائیں بٹھلا کر ایک ہی نظر سے تندرست کر دیتے تھے اور بعض جو مشق میں کچھ کمزور تھے وہ ہاتھ لگا کر یا بیمار کے کسی کپڑے کو چھو کر شفا بخشتے تھے ۔ اس مشق میں عامل عمل کے وقت میں کچھ ایسا احساس کرتا ہے کہ گویا اس کے اندر سے بیمار پر اثر ڈالنے کے وقت ایک قوت نکلتی ہے اور بسا اوقات بیمار کو بھی یہ مشہور ہوتا ہے کہ اس کے اندر سے ایک زہریلا مادہ حرکت کر کے سفلی اعضا کی طرف اترتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ بکلی منہدم ہو جاتا ہے۔ اس علم میں اسلام میں بہت سی تالیفیں موجود ہیں اور میں خیال کرتا ہوں کہ ہندوؤں میں بھی اس کی کتابیں ہونگی۔ حال میں جو انگریزوں نے فن مسمریزم نکالا ہے حقیقت میں وہ بھی اسی علم کی ایک شاخ ہے۔ انجیل پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح کو بھی کسی قدر اس علم میں مشق تھی مگر کامل نہیں تھے۔ اس وقت کے لوگ سادہ اور اس علم سے بے خبر تھے۔ اسی وجہ سے اس زمانہ میں یہ عمل اپنی حد سے زیادہ قابل تعریف سمجھا گیا تھا مگر پیچھے سے جوں جوں اس علم کی حقیقت کھلتی گئی لوگ اپنے علوم عتقاد سے تنزل کرتے گئے ۔ یہاں تک کہ بعضوں نے یہ رائے ظاہر کی کہ ایسی مشقوں سے بیماروں کو چنگا کرنا یا مجنونوں کو شفا بخشنا کچھ بھی کمال کی بات نہیں بلکہ اس میں ایماندار ہونا بھی ضروری نہیں ۔ چہ جائیکہ نبوت یا ولایت پر یہ دلیل ہو سکے۔ ان کا یہ بھی قول ہے کہ عمل سب امراض بدنیہ کی کامل مشق اور اُسی شغل میں دن رات اپنے تئیں ڈالے رکھنا روحانی ترقی کیلئے سخت مضر ہے اور ایسے شخص کے ہاتھ سے تازہ مردوں کا عمل توجہ سے چند منٹ یا چند گھنٹوں کیلئے زندہ ہو جانا قانون قدرت کے منافی نہیں جس حالت میں ہم بچشم خود دیکھتے ہیں کہ بعض جاندار مرنے کے بعد کسی دوا سے زندہ ہو جاتے ہیں تو پھر انسان کا زندہ ہونا کیا مشکل اور کیوں دور از قیاس ہے۔ منہ