ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 474
روحانی خزائن جلد۴ ۴۷۴ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات اعلیٰ درجہ کے نشان ہیں اور کیسے ہر زمانے کیلئے مشہود ومحسوس کا حکم رکھتے ہیں۔ پہلے نبیوں کے معجزات کا اب نام و نشان باقی نہیں، صرف قصے ہیں ۔ خدا جانے ان کی اصلیت کہاں تک درست ہے۔ بالخصوص حضرت مسیح کے معجزات جوانجیلوں میں لکھے ہیں باوجود قصوں اور کہانیوں کے رنگ میں ہونے کے اور باوجود بہت سے مبالغات کے جو ان میں پائے جاتے ہیں۔ ایسے شکوک و شبہات ان پر وارد ہوتے ہیں کہ جن سے انہیں بکلی صاف و پاک کر کے دکھلانا بہت مشکل ہے۔ اور اگر ہم فرض کے طور پر تسلیم بھی کر لیں کہ جو کچھ انا جیل مروجہ میں حضرت مسیح کی نسبت بیان کیا گیا ہے کہ لولے اور لنگڑے اور مفلوج اور اندھے وغیرہ بیمار ان کے چھونے سے اچھے ہو جاتے تھے۔ یہ تمام بیان بلا مبالغہ ہے اور ظاہر پر ہی محمول ہے کوئی اور معنی اس کے نہیں۔ تب بھی حضرت مسیح کی ان باتوں سے کوئی بڑی خوبی ثابت نہیں ہوتی ۔ اول تو انہیں دنوں میں ایک تالاب بھی ایسا تھا کہ اس میں ایک وقت خاص میں غوطہ مارنے سے ایسی سب مرضیں فی الفور دور ہو جاتی تھیں جیسا کہ خود انجیل میں مذکور ہے پھر ماسوائے اس کے زمانہ دراز کی تحقیقاتوں نے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ ملکہ سب امراض منجملہ علوم کے ایک علم ہے جس کے اب بھی بہت لوگ مشاق پائے جاتے ہیں۔ جس میں شدت توجہ اور دماغی طاقتوں کے خرچ کرنے اور جذب خیال کا اثر ڈالنے کی مشق درکار ہے ۔سواس علم کو نبوت سے کچھ علاقہ نہیں بلکہ مرد صالح ہونا بھی اس کے لئے ضروری نہیں اور قدیم سے یہ علم رائج ہوتا چلا آیا ہے۔مسلمانوں میں بعض اکابر جیسے محی الدین ( ابن ) عربی صاحب فصوص اور بعض نقشبندیوں کے اکا بر اس کام میں مشاق گزرے ہیں۔ ایسے کہ ان کے وقت میں ان کی نظیر پائی نہیں گئی بلکہ بعض کی نسبت ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اپنی کامل توجہ سے باز نہ تعالی تازہ