ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 468 of 598

ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 468

روحانی خزائن جلده ۴۶۸ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات ناتوانی کو دور کر دیا اور معدودے چند سے ہزار ہا تک ان کی نوبت پہنچادی اور ان کے ذریعہ سے ان تمام کفار کو تہ تیغ کیا جو مکہ میں اپنی سرکشی اور جور و جفا کے زمانہ میں نہایت تکبر سے عذاب کا نشان مانگا کرتے تھے لیکن اس بات کا ثبوت قرآن شریف سے کہاں ملتا ہے کہ بجز اُن نشانوں کے اور بھی نشان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھلائے تھے سو واضح ہو کہ نشانوں کے دکھلانے کا ذکر قرآن شریف میں جابجا آیا ہے بعض جگہ اپنے پہلے نشانوں کا حوالہ بھی دیا ہے دیکھو آیت كَمَالَمْ يُؤْمِنُوا بِةٍ أَوَّلَ مَرَّةٍ - الجزو نمبرے سورہ انعام بعض جگہ کفار کی نا انصافی کا ذکر کر کے ان کا اس طور کا اقرار درج کیا ہے کہ وہ نشانوں کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ وہ جادو ہے۔ دیکھو آیت وَانْ يَرَوْا اِيَةً تُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُسْتَمر الجزو نمبر ٣٧ سورة القمر ۲۷ بعض جگہ جو نشانوں کے دیکھنے کا صاف اقرار منکرین نے کر دیا ہے وہ شہادتیں ان کی پیش کی ہیں۔ جیسا کہ فرماتا ہے وَشَهِدُوا أَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌّ وَجَاءَهُمُ الْبَيْنَتُ یعنی انہوں نے رسول کے حق ہونے پر گواہی دی اور کھلے کھلے نشان ان کو پہنچ گئے اور بعض جگہ معجزات کو بتصریح بیان کر دیا ہے جیسے معجزہ شق القمر جو ایک عظیم الشان معجزہ اور خدائی قدرت کا ایک کامل نمونہ ہے جس کی تصریح ہم نے کتاب سرمہ چشم آریہ میں بخوبی کر دی ہے جو شخص مفصل دیکھنا چاہے اس میں دیکھ سکتا ہے۔ اس جگہ یہ بھی یادر ہے کہ جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے خود تراشیده نشان مانگا کرتے تھے اکثر وہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نشانوں کے آخر کار گواہ بھی بن گئے تھے کیونکہ آخر وہی لوگ تو تھے جنہوں نے مشرف باسلام ہو کر دین اسلام کو مشارق ومغارب میں پھیلایا اور نیز معجزات اور پیشگوئیوں کے بارے میں کتب احادیث میں اپنی رویت کی شہادتیں قلمبند کرائیں پس اس زمانہ میں ایک عجیب طرز ہے کہ ان بزرگان دین کے اس زمانہ جاہلیت کے انکاروں کو الانعام ۲۱۱۱ القمر ۳۳ ال عمران ۸۷