ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 464 of 598

ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 464

روحانی خزائن جلد۴ ۴۶۴ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات چیز دیکھی جائے گی جو محدود ہوگی۔ بہر حال اس آیت کے یہی معنی صحیح ہوں گے کہ جو بعض نشانات پہلے کفار دیکھ چکے تھے اور ان کی تکذیب کر چکے تھے۔ ان کا دوبارہ بھیجنا عبث سمجھا گیا۔ جیسا کہ قرینہ بھی انہیں معنوں پر دلالت کرتا ہے یعنی اس موقعہ پر جو ناقہ شہود کا خدائے تعالیٰ نے ذکر کیا وہ ذکر ایک بھاری قرینہ اس بات پر ہے کہ اس جگہ گزشتہ اور رڈ کردہ نشانات کا ذکر ہے جو تخویف کے نشانوں میں سے تھے اور یہی تیسرے معنی ہیں جو صحیح اور درست ہیں ۔ پھر اس جگہ ایک اور بات منصفین کے سوچنے کے لائق ہے جس سے اُن پر ظاہر ہوگا کہ آیت وَ مَا مَنَعَنَا أَنْ تُرْسِلَ بِالْآیت الخلے سے ثبوت معجزات ہی پایا جاتا ہے نہ فی معجزات کیونکہ الأیت کے لفظ پر جو الف لام واقعہ ہے وہ بموجب قواعد نحو کے دو صورتوں سے خالی نہیں۔ یا کل کے معنے دے گا یا خاص کے اگر کل کے معنے دے گا تو یہ معنے کئے جائیں گے کہ ہمیں کل معجزات کے بھیجنے سے کوئی امر مانع نہیں ہوا مگر انگلوں کا ان کو جھٹلانا اور اگر خاص کے معنی دے گا تو یہ معنی ہونگے کہ ہمیں ان خاص نشانیوں کے بھیجنے سے ( جنہیں منکر طلب کرتے ہیں) کوئی امر مانع نہیں ہوا مگر یہ کہ ان نشانیوں کو اگلوں نے جھٹلایا۔ بہر حال ان دونوں صورتوں میں نشانوں کا آنا ثابت ہوتا ہے کیونکہ اگر یہ معنی ہوں کہ ہم نے ساری نشانیاں بوجہ تکذیب اہم گذشتہ نہیں بھیجیں تو اس سے بعض نشانوں کا بھیجنا ثابت ہوتا ہے جیسے مثلاً اگر کوئی کہے کہ میں نے اپنا سارا مال زید کو نہیں دیا تو اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ اس نے کچھ حصہ اپنے مال کا زید کو ضرور دیا ہے اور اگر یہ معنے لیں کہ بعض خاص نشان ہم نے نہیں بھیجے تو بھی بعض دیگر کا بھیجنا ثابت ہے مثلاً اگر کوئی کہے کہ بعض خاص چیزیں میں نے زید کو نہیں دیں تو اس سے صاف پایا جائے گا کہ بعض دیگر بنی اسراءیل: ۶۰