ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 463
روحانی خزائن جلد۴ ۴۶۳ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات تخویف کے نشانوں کا آیات موصوفہ بالا میں ذکر ہے تو یہ دوسرا امرتنقیح طلب باقی رہا کہ کیا اس آیت کے (جو مَا مَنَعَنَا الخ ہے ) یہ معنی سمجھنے چاہئیں کہ تخویف کا کوئی نشان خدائے تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر ظاہر نہیں کیا یا یہ معنی سمجھنے چاہئیں کہ تخویف کے نشانوں میں سے وہ نشان ظاہر نہیں کئے گئے جو پہلی امتوں کو دکھلائے گئے تھے اور یا یہ تیسرے معنی قابل اعتبار ہیں کہ دونوں قسم کے تخویف کے نشان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے ظاہر ہوتے رہے ہیں ۔ بجز اُن خاص قسم کے بعض نشانوں کے جن کو پہلی اُمتوں نے دیکھ کر جھٹلا دیا تھا اور ان کو معجزہ نہیں سمجھا تھا۔ سو واضح ہو کہ آیات متنازعہ فیہا پر نظر ڈالنے سے تمام تر صفائی کھل جاتا ہے کہ پہلے اور دوسرے معنی کسی طرح درست نہیں۔ کیونکہ آیت ممدوحہ بالا کے یہ سمجھ لینا کہ تمام انواع واقسام کے وہ تخویفی نشان جو ہم بھیج سکتے ہیں اور تمام وہ وراء الوراء تعذیبی نشان جن کے بھیجنے پر غیر محدود طور پر ہم قادر ہیں اس لئے ہم نے نہیں بھیجے کہ پہلی امتیں اُس کی تکذیب کر چکی ہیں۔ یہ معنے سراسر باطل ہیں۔ کیونکہ ظاہر ہے کہ پہلی امتوں نے انہیں نشانوں کی تکذیب کی جو انہوں نے دیکھے تھے وجہ یہ کہ تکذیب کیلئے یہ ضرور ہے کہ جس چیز کی تکذیب کی جائے۔ اوّل اس کا مشاہدہ بھی ہو جائے ۔ جس نشان کو ابھی دیکھا ہی نہیں اس کی تکذیب کیسی حالانکہ نادیدہ نشانوں میں سے ایسے اعلیٰ درجہ کے نشان بھی تحت قدرت باری تعالی ہیں جس کی کوئی انسان تکذیب نہ کر سکے اور سب گردنیں اُن کی طرف جھک جائیں ۔ کیونکہ خدائے تعالیٰ ہر ایک رنگ کا نشان دکھلانے پر قادر ہے اور پھر چونکہ نشان ہائے قدرت باری غیر محدود اور غیر متناہی ہیں تو پھر یہ کہنا کیونکر درست ہو سکتا ہے کہ 11 محدود زمانہ میں وہ سب دیکھے بھی گئے اور ان کی تکذیب بھی ہوگئی۔ وقت محدود میں تو وہی