ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 460
روحانی خزائن جلد۴ ۴۶۰ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات بِالْايَتِ إِلَّا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُوْنَ وَأَتَيْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَا وَمَا نُرْسِلُ بِالْايْتِ إِلَّا تَخْوِيفًا - فرماتا ہے عز و جل کہ یوں تو قیامت سے پہلے ہر ایک بستی کو ہم نے ہی ہلاک کرنا ہے یا عذاب شدید نازل کرنا ہے یہی کتاب میں مندرج ہو چکا ہے۔ مگر اس وقت ہم بعض ان گذشتہ قہری نشانوں کو ( جو عذاب کی صورت میں پہلی امتوں پر نازل ہو چکے ہیں ) اس لئے نہیں بھیجتے جو پہلی اُمت کے لوگ اس کی تکذیب کر چکے ہیں۔ چنانچہ ہم نے شمود کو بطور نشان کے جو مقدمہ عذاب کا تھا ناقہ دیا جو حق نما نشان تھا۔ ( جس پر انہوں نے ظلم کیا۔ یعنی وہی ناقہ جس کی بسیار خوری اور بسیار نوشی کی وجہ سے شہر حجر کے باشندوں کے لئے جو قوم ثمود میں سے تھے۔ نہ پانی تالاب وغیرہ کا پینے کے لئے باقی رہا تھا اور نہ اُن کے مویشی کیلئے کوئی چراگاہ رہی تھی اور ایک سخت تکلیف اور رنج اور بلا میں گرفتار ہو گئی تھی ) اور قہری نشانوں کے نازل کرنے سے ہماری غرض یہی ہوتی ہے کہ لوگ اُن سے ڈریں یعنی قہری نشان تو صرف تخویف کیلئے دکھلائے جاتے ہیں پس ایسے قہری نشانوں کے طلب کرنے سے کیا فائدہ جو پہلی امتوں نے دیکھ کر انہیں جھٹلا دیا اور اُن کے دیکھنے سے کچھ بھی خائف و ہراساں نہ ہوئے۔ اس جگہ واضح ہو کہ نشان دو قسم کے ہوتے ہیں۔ (۱) نشان تخویف و تعذیب جن کو قہری نشان بھی کہہ سکتے ہیں۔ (۲) نشان تبشیر و تسکین جن کو نشان رحمت سے بھی موسوم کر سکتے ہیں۔ تخویف کے نشان سخت کافروں اور کج دلوں اور نافرمانوں اور بے ایمانوں اور فرعونی طبیعت والوں کیلئے ظاہر کئے جاتے ہیں تا وہ ڈریں اور خدائے تعالیٰ کی قہری اور جلالی بیت ان کے دلوں پر طاری ہو۔ اور تبشیر کے نشان اُن حق کے طالبوں اور مخلص مومنوں اور سچائی ا بنی اسراءیل: ۶۰،۵۹