ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 458
روحانی خزائن جلده ۴۵۸ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات اب قصہ کوتاہ یہ کہ آپ نے آیت متذکرہ بالا کے لا نافیہ کو قرائن کی حد سے زیادہ کھینچ دیا ہے ایسا لا نافیہ عربوں کے کبھی خواب میں بھی نہیں آیا ہوگا۔ ان کے دل تو ۱۳ اسلام کی حقیت سے بھرے ہوئے تھے ۔ تب ہی تو سب کے سب بجز معدودے چند کہ جو اس عذاب کو پہنچ گئے تھے جس کا اُن کو وعدہ دیا گیا تھا بالآخر مشرف بالاسلام ہو گئے تھے اور پھر بھی نہ صاف طور پر بلکہ شرط پر شرط لگانے سے جن کا ذکر قرآن شریف میں جابجا آیا ہے۔ اس سوچنے والے کیلئے عرب کے شریروں کی ایسی درخواستیں ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات ظاہرہ وآیات بینہ ورسولا نہ ہیئت پر صاف اور کھلی کھلی دلیل ہے۔ خدا جانے ان دل کے اندھوں کو ہمارے مولیٰ و آقا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے انوار صداقت نے کس درجہ تک عاجز وتنگ کر رکھا تھا اور کیا کچھ آسمانی تائیدات و برکات کی بارشیں ہو رہی تھیں کہ جن سے خیرہ ہو کر اور جن کی ہیئت سے منہ پھیر کر سراسر ٹالنے اور بھاگنے کی غرض سے ایسی دور از صواب درخواستیں پیش کرتے تھے۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کے معجزات کا دکھلانا ایمان بالغیب کی حد سے باہر ہے۔ یوں تو اللہ جل شانہ قادر ہے کہ زمین سے آسمان تک زینہ رکھ دیوے۔ جس کو سب لوگ دیکھ لیویں اور دو چار ہزار کیا دو چار کروڑ آدمیوں کو زندہ کر کے ان کے منہ سے اُن کی اولاد کے سامنے صدق نبوت کی گواہی دلا دیوے۔ یہ سب کچھ وہ کر سکتا ہے مگر ذرا سوچ کر دیکھو کہ اس انکشاف تام سے ایمان بالغیب جو مدار ثواب اور اجر ہے دور ہو جاتا ہے اور دنیا نمونہ محشر ہو جاتی ہے۔ پس جس طرح قیامت کے میدان میں جو انکشاف نام کا وقت ہو گا ایمان کام نہیں آتا۔ اسی طرح اس انکشاف نام سے بھی ایمان لانا کچھ مفید نہیں بلکہ ایمان اسی حد تک ایمان کہلاتا ہے کہ جب کچھ اخفا بھی باقی رہے جب سارے پر دے کھل گئے تو پھر ایمان ایمان نہیں رہتا اسی وجہ سے سارے نبی ایمان بالغیب کی رعایت سے معجزے دکھلاتے رہے ہیں کبھی کسی نبی نے ایسا نہیں کیا کہ ایک شہر کا شہر زندہ کر کے ان سے اپنی نبوت کی گواہی دلاوے یا آسمان تک نردبان رکھ کر اور سب کے رو برو چڑھ کر تمام دنیا کو تماشا دکھلاوے۔