ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 457 of 598

ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 457

روحانی خزائن جلده ۴۵۷ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات ہے کہ کیوں اس پیغمبر پر کوئی نشانی نہیں اتری؟ ساتھ ہی یہ بھی بتلا دیا گیا ہے کہ اُن کا ☆ مطلب یہ ہے کہ جو نشانیاں ہم ما نگتے ہیں۔ اُن میں سے کوئی نشانی کیوں نہیں اترقی ۔ واضح ہو کہ قرآن شریف میں نشان مانگنے کے سوالات کفار کی طرف سے صرف ایک دو ۱۰ جگہ نہیں بلکہ کئی مقامات میں یہی سوال کیا گیا ہے اور ان سب مقامات کو بنظر یکجائی دیکھنے سے 11 ثابت ہوتا ہے کہ کفار مکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تین قسم کے نشان مانگا کرتے تھے۔ (۱) وہ نشان جو عذاب کی صورت میں فقط اپنے اقتراح سے کفار مکہ نے طلب کئے تھے۔ (۲) دوسرے وہ نشان جو عذاب کی صورت میں یا مقدمہ عذاب کی صورت میں پہلی اُمتوں پر وارد کئے گئے تھے ۔ (۳) تیسرے وہ نشان جس سے پردہ غیبی بکنی اُٹھ جائے ، جس کا اُٹھ جانا ایمان بالغیب کے بکلی بر خلاف ہے۔ سو عذاب کے نشان ظاہر ہونے کے لئے جو سوال کئے گئے ہیں ان کا جواب تو قرآن شریف میں یہی دیا گیا ہے کہ تم منتظر رہو، عذاب نازل ہوگا۔ ہاں ایسی صورت کا عذاب نازل کرنے سے انکار کیا گیا ہے جس کی پہلے تکذیب ہو چکی ہے تا ہم عذاب نازل ہونے کا وعدہ دیا گیا ہے جو آخر غزوات کے ذریعہ سے پورا ہو گیا لیکن تیسری قسم کا نشان دکھلانے سے بکلی انکار کیا گیا ہے اور خود ظاہر ہے کہ ایسے سوال کا جواب انکار ہی تھانہ اور کچھ۔ کیونکہ کفار کہتے تھے کہ ہم تب ایمان لائیں گے کہ جب ہم ایسا نشان دیکھیں کہ زمین سے آسمان تک ایک نردبان رکھی جائے اور تو ہمارے دیکھتے دیکھتے اس نردبان کے ذریعہ سے زمین سے آسمان پر چڑھ جائے اور فقط تیرا آسمان پر چڑھنا ہم ہرگز قبول نہیں کریں گے جب تک آسمان سے ایک ایسی کتاب نہ لاوے جس کو ہم پڑھ لیں اور پڑھیں بھی اپنے ہاتھ میں لے کر ۔ یا تو ایسا کر کہ مکہ کی زمین میں جو ہمیشہ پانی کی تکلیف رہتی ہے۔ شام اور عراق کے ملک کی طرح نہریں جاری ہو جائیں اور جس قدر ابتدا دنیا سے آج تک ہمارے بزرگ مر چکے ہیں، سب زندہ ہوکر آجائیں اور اس میں قصی بن کلاب بھی ہو کیونکہ وہ بڑھا ہمیشہ بیچ بولتا تھا۔ اس سے ہم پوچھیں گے کہ تیرا دعویٰ حق ہے یا باطل؟ یہ سخت سخت خود تراشید و نشان تھے جو وہ مانگتے تھے