ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 454 of 598

ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 454

روحانی خزائن جلده ۴۵۴ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات ہوتے چلے جاتے ہیں اور مادر زاد اندھے جو بے شمار پشتوں سے اندھے ہی چلے آتے تھے۔ آنکھیں کھول رہے ہیں اور کفر اور الحاد کی طرح طرح کی بیماریاں اس سے اچھی ہوتی چلی جاتی ہیں اور تعصب کے سخت جذامی اس سے صاف ہوتے جاتے ہیں۔ اس سے نور ملتا ہے اور ظلمت دُور ہوتی ہے اور وصل الہی میسر آتا ہے اور اس کی علامات پیدا ہوتی ہیں۔ سو تم کیوں اس رحمت کے نشان کو چھوڑ کر جو ہمیشہ کی زندگی بخشتا ہے عذاب اور موت کا نشان مانگتے ہو؟ پھر بعد اس کے فرمایا کہ یہ قوم تو جلدی سے عذاب ہی مانگتی ہے۔ رحمت کے نشانوں سے فائدہ اُٹھانا نہیں چاہتی۔ اُن کو کہہ دے کہ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ عذاب کی نشانیاں وابستہ باوقات ہوتی ہیں تو یہ عذابی نشانیاں بھی کب کی نازل ہوگئی ہوتیں اور بقیہ حاشیہ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هُذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُوْنَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْض ظَهيرالے یعنی قرآن کے ذریعہ سے سلامتی کی راہوں کی ہدایت ملتی ہے اور لوگ ظلمت سے نور کی طرف نکالے جاتے ہیں وہ ہر ایک اندرونی بیماری کو اچھا کرتا ہے۔ خدا نے ایک ایسا پانی اُتارا ہے جس سے مردو زمین زندہ ہو رہی ہے ایسا پانی اُتارا جس سے ہر ایک وادی میں بقدر اپنی وسعت کے بہہ نکلا ہے۔ ایسا پانی اتارا جس سے گلی سڑی ہوئی زمین سرسبز ہوگئی۔ اس سے خدا خوف بندوں کی جلدیں کا نپتی ہیں۔ پھر ان کی جلد میں اور ان کے دل ذکر الہی کیلئے نرم ہو جاتے ہیں۔ یاد رکھو کہ قرآن سے دل اطمینان پکڑتے ہیں جو لوگ قرآن کے تابع ہو جائیں اُن کے دلوں میں ایمان لکھا جاتا ہے اور روح القدس انہیں ملتا ہے۔ روح القدس نے ہی قرآن کو اُتارا تا قرآن ایمانداروں کے دلوں کو مضبوط کرے اور مسلمین کیلئے ہدایت اور بشارت کا نشان ہو۔ ہم نے ہی قرآن کو اُتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں، یعنی کیا صورت کے لحاظ سے اور کیا خاصیت کے لحاظ سے ہمیشہ قرآن اپنی حالت اصلی پر رہے گا اور انہی حفاظت کا اس پر سایہ ہوگا۔ پھر فرمایا کہ قرآن میں تمام معارف و حقائق و صداقتیں ہیں جو حقانی کتابوں میں پائی جاتی ہیں۔ اور اس کی مثل بنانے پر کوئی انسان و جن قادر نہیں اگر چہ اس کام کیلئے با ہم مد و معاون ہو جائیں۔ بنی اسراءیل: ۸۹