ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 453
روحانی خزائن جلد۴ ۴۵۳ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات و ہم اور اضطراب کے دور کرنے کے لئے فرمایا کہ ایسا ہی نشان چاہتے ہو جو تمہارے وجودوں پر وارد ہو جائے تو پھر عذاب کے نشان کی کیا حاجت ہے؟ کیا اس مدعا کے حاصل کرنے کے لئے رحمت کا نشان کافی نہیں؟ یعنی قرآن شریف جو تمہاری آنکھوں کو اپنی پر نور اور تیز شعاعوں سے خیرہ کر رہا ہے اور اپنی ذاتی خوبیاں اور اپنے حقائق اور معارف اور اپنے فوق العادت خواص اس قدر دکھلا رہا ہے جس کے مقابلہ ومعارضہ سے تم عاجز رہ گئے ہو اور تم پر اور تمہاری قوم پر ایک خارق عادت اثر ڈال رہا ہے * اور دلوں پر وارد ہو کر عجیب در عجیب تبدیلیاں دکھلا رہا ہے۔ مدت ہائے دراز کے مردے اس سے زندہ ۸ محمد یہ تمام خارق عادت خاصیتیں قرآن شریف کی ، جن کی رو سے وہ معجزہ کہلاتا ہے انے کے مفصلہ ذیل سورتوں میں یہ تفصیل ذیل لکھتے ہیں۔ سورة البـقـر ، سورة ال عمران، ا حاشیه سورة النساء سورة المائده، سورة الانعام سورة الاعراف، سورة الانفال، ۸ سورة التوبة سورة يونس سورة هود سورة الرعد سورة ابراهيم سورة الحجر، سورة الواقعه، سورة النمل، سورة الحج، سورة البينه، سورة المجادلة چنانچہ بطور نمونہ چند آیات یہ ہیں فرماتا ہے عزّ و جلّ۔ يَهْدِي بِهِ اللهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَ سُبُلَ السَّلمِ وَيُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمتِ إِلَى النُّورِ شِفَاءٌ لِمَا فِي الصُّدُورِ أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا " اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِهَا أَنْزَلَ مِن السَّمَاءِ مَاءً فَتُصْبِحُ الْأَرْضُ مُخْضَرَّةً تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ۚ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ لَ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَينُ القُلُوبُ ، أوليك كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيْمَانَ وَأَيَّدَهُمْ بِرُوجِ مِنْهُ ۵ قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِيُثَبِّتَ الَّذِينَ آمَنُوْا وَهُدًى وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحَفِظُوْنَ فِيْهَا كُتُبُ قَيْمَةٌ لَا قُل نَّبِنِ المائدة: ۱۷ ۲ یونس : ۵۸ ۳ النحل : ٦٦ ٢ الرعد: ۱۸ ۵ الحج : ۶۴ الزمر : ۲۴ - الرعد: ۲۹ المجادلة: ٢٣ النحل :١٠٣ ۔ الحجر :١٠ البيئة: