ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 452
روحانی خزائن جلد۴ ۴۵۲ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات ہرگز ثابت نہیں ہوتا بلکہ برخلاف اس کے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ضرور ایسے معجزات ظہور پذیر ہوتے رہے ہیں کہ جو ایک صادق و کامل نبی سے ہونے چاہئیں ۔ چنانچہ تصریح اس کی نیچے کے بیانات سے بخوبی ہو جائے گی۔ پہلی آیت جس کا ترجمہ معترض نے اپنے دعوی کی تائید کیلئے عبارات متعلقہ سے کاٹ کر پیش کر دیا ہے مع اس ساتھ کی دوسری آیتوں کے جن سے مطلب کھلتا ہے، یہ ہے۔ وَقَالُوا لَوْلَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ أَيْتُ مِنْ رَبِّ قُلْ إِنَّمَا الْأَيْتُ عِنْدَ اللهِ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرُ مبِينٌ أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ يُتْلَى عَلَيْهِمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَرَحْمَةً و ذِكْرَى لِقَوْمٍ يُؤْمِنُوْنَ ۔ وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ وَلَوْلَا أَجَلُّ مُّسَمًّى لَجَاءَهُمُ الْعَذَابُ وَلَيَأْتِيَنَّهُمْ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ لَ یعنی کہتے ہیں کیوں نہ اُتریں اس پر نشانیاں کہ وہ نشانیاں ( جو تم مانگتے ہو یعنی عذاب کی نشانیاں) وہ تو خدائے تعالی کے پاس اور خاص اس کے اختیار میں ہیں اور میں تو صرف ڈرانے والا ہوں۔ یعنی میرا کام فقط یہ ہے کہ عذاب کے دن سے ڈراؤں نہ یہ کہ اپنی طرف سے عذاب نازل کروں اور پھر فرمایا کہ کیا ان لوگوں کیلئے ( جو اپنے پر کوئی عذاب کی نشانی وارد کرانی چاہتے ہیں ) یہ رحمت کی نشانی کافی نہیں جو ہم نے تجھ پر (اے رسول امی ) وہ کتاب ( جو جامع کمالات ہے ) نازل کی جو اُن پر پڑھی جاتی ہے یعنی قرآن شریف جو ایک رحمت کا نشان ہے۔ جس سے در حقیقت وہی مطلب نکلتا ہے جو کفار عذاب کے نشانوں سے پورا کرنا چاہتے ہیں کیونکہ کفار مکہ اس غرض سے عذاب کا نشان ما نگتے تھے کہ تا وہ ان پر وارد ہو کر انہیں حق الیقین تک پہنچا دے۔ صرف دیکھنے کی چیز نہ رہے کیونکہ مجرد رؤیت کے نشانوں میں ان کو دھو کے کا احتمال تھا اور چشم بندی وغیرہ کا خیال سواس العنكبوت: ۵۲٬۵۱ العنكبوت: ۵۴