ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 447
روحانی خزائن جلد ۴ ۴۴۷ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات کم حصہ رکھتے ہیں بلکہ اوپر کی آیتوں سے یہ بھی کھلتا ہے کہ اس جگہ یہ حکم فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ کا پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے جس کا قرآن شریف میں ذکر کیا گیا ہے کیونکہ شروع کی آیت میں جس سے یہ آیت تعلق رکھتی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی قول ہے یعنی یہ کہ اَفَغَيْرَ اللهِ اَبْتَغِی حَكَمًا سو ان تمام آیات کا با محاورہ ترجمہ یہ ہے کہ میں بجز خدائے تعالیٰ کے کوئی اور حکم جو مجھ میں اور تم میں فیصلہ کرے مقرر نہیں کر سکتا وہ وہی ہے جس نے تم پر مفصل کتاب نازل کی سوجن کو اس کتاب کا علم دیا گیا ہے وہ اس کا منجانب اللہ ہونا خوب جانتے ہیں سو تو (اے بے خبر آدمی ) شک کرنے والوں میں سے مت ہو۔ اب تحقیق سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود شک نہیں کرتے بلکہ شک کرنے والوں کو بحوالہ شواہد و دلائل منع فرماتے ہیں پس با وجود ایسے کھلے کھلے بیان کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف شک فی الرسالت کو منسوب کرنا بے خبری و بے علمی یا محض تعصب نہیں تو کیا ہے۔ پھر اگر کسی کے دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ اگر شک کرنے سے بعض ایسے نو مسلم یا متردد منع کئے گئے تھے جو ضعیف الایمان تھے تو اُن کو یوں کہنا چاہیے تھا کہ تم شک مت کرو نہ یہ کہ تو شک مت کر کیونکہ ضعیف الایمان آدمی صرف ایک ہی نہیں ہوتا بلکہ کئی ہوتے ہیں بجائے جمع کے واحد مخاطب کا صیغہ کیوں استعمال کیا گیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس وحدت ت جنسی مراد ہے جو جماعت کا حکم رکھتی ہے اگر تم اول اول سے آخر تک قرآن شریف کو پڑھو تو یہ عام محاورہ اُس میں پاؤ گے کہ وہ اکثر مقامات میں جماعت کو فرد واحد کی صورت میں مخاطب کرتا ہے مثلاً نمونہ کے طور پر ان آیات کو دیکھو۔ لَا تَجْعَلْ مَعَ اللَّهِ إِلَهَا أَخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُومًا مَّخْذُوْلًا - وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ سے وحدت