ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 445
روحانی خزائن جلد ۴ ~ ۴۴۵ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات مورد برکات رحمانی مصدرا نوار قرآنی جناب مرزاغلام احمد صاحب رئیس قادیاں کی طرف سے جوابات پہلے سوال کا جواب معترض نے پہلے اپنے دعوے کی تائید میں سورہ بقر میں سے ایک آیت پیش کی ہے جس کے پورے پورے لفظ یہ ہیں ۔ اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ ! اس آیت کا سیاق سباق یعنی اگلی پچھلی آیتوں کے دیکھنے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس جگہ نبوت اور قرآن شریف کا کوئی ذکر نہیں۔ صرف اس بات کا بیان ہے کہ اب بیت المقدس کی طرف نہیں۔ بلکہ بیت کعبہ کی طرف منہ پھیر کر نماز پڑھنی چاہیے۔ سو اللہ جل شانہ اس آیت میں فرماتا ہے کہ یہ ہی حق بات ہے یعنی خانہ کعبہ کی طرف ہی نماز پڑھنا حق ہے جو ابتدا سے مقرر ہو چکا ہے اور پہلی کتابوں میں بطور پیشگوئی اس کا بیان بھی ہے سو تو (اے پڑھنے والے اس کتاب کے ) اس بارے میں شک کرنے والوں سے مت ہو پھر ☆ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پہلی کتابوں میں اور نیز انجیل میں بھی تحویل قبلہ کے بارے میں بطور پیشگوئی اشارات ہو چکے ہیں۔ دیکھو یوحنا ۴-۲۱-۲۴ یسوع نے اُس سے کہا کہ اے عورت میری بات کو یقین رکھ وہ گھڑی آتی ہے کہ جس میں تم نہ اس پہاڑ پر اور نہ یروشلم میں باپ کی پرستش کرو گے۔ البقرة: ۱۴۸