ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 443
روحانی خزائن جلدم ۴۴۳ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيم بَلْ هُوَ ايَتٌ بَيْنَتُ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ لا چند روز ہوئے کہ ایک عیسائی صاحب مسٹمی عبد اللہ جیمز نے چند سوال اسلام کی نسبت بطلب جواب انجمن میں ارسال فرمائے تھے چنانچہ اُن کے جواب اس انجمن کے تین معزز و مقتدر معاونین نے تحریر فرمائے ہیں جو بعد مشکوری تمام بصورت رسالہ ہذا شائع کئے جاتے ہیں ۔ سوالات اوّل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی نبوت اور قرآن مجید کے کلام اللہ ہونے پر متشکی ہونا جیسا سورہ بقر اور سورہ انعام میں درج ہے فَلا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ ! اس سے ثابت ہوتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دل میں یقین جانتے تھے کہ وہ پیغمبر خدا انہیں اگر وہ پیغمبر خدا ہوتے یا انہوں نے کبھی بھی کوئی معجزہ کیا ہوتا یا معراج ہوا ہوتا یا جبرئیل علیہ السلام قرآن مجید لائے ہوتے تو وہ کبھی اپنی نبوت پر تشکی نہ ہوتے اُس سے ان کا قرآن مجید پر اور اپنی نبوت پر تشکی ہونا صاف صاف ثابت ہوتا ہے اور نہ وہ رسول اللہ ہیں ۔ دوم : محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بھی کوئی معجزہ نہ ملا جیسا کہ سورۂ عنکبوت میں درج ہے ( ترجمه عربی کا ) اور کہتے ہیں کیوں نہ اُتریں اس پر کچھ نشانیاں ( یعنی کوئی ایک بھی العنكبوت: ۵۰ ٢ البقرة: ۱۴۸