ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 441
روحانی خزائن جلد۴ ۴۴۱ دیکھو اور ذرا پاک نظر سے غور کرو کہ جن نشانوں کا خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں ذکر کیا ہے کس اعلیٰ درجہ کے نشان ہیں اور کیسے ہر زمانہ کے لئے مشہور و محسوس کا حکم رکھتے ہیں۔ پہلے نبیوں کے معجزات کا اب نام ونشان باقی نہیں صرف قصے ہیں۔ خدا جانے ان کی اصلیت کہاں تک درست ہے؟ بالخصوص حضرت مسیح کے معجزات جو انجیلوں میں لکھے ہیں باوجود قصوں اور کہانیوں کے رنگ میں ہونے کے اور باوجود بہت سے مبالغات کے جو ان میں پائے جاتے ہیں ایسے شکوک و شبہات ان پر وارد ہوتے ہیں کہ جن سے انہیں بکلی صاف و پاک کر کے دکھلانا بہت مشکل ہے۔“ غرض امریکہ اور یورپ آج کل ایک جوش کی حالت میں ہے اور انجیل کے عقیدوں نے جو برخلاف حقیقت ہیں بڑی گھبراہٹ میں انہیں ڈال دیا ہے یہاں تک کہ بعضوں نے یہ رائے ظاہر کی کہ مسیح یا عیسی نام خارج میں کوئی شخص کبھی پیدا نہیں ہوا بلکہ اس سے آفتاب مراد ہے اور بارہ حواریوں سے بارہ برج مراد ہیں اور پھر اس مذہب عیسائی کی حقیقت زیادہ تر اس بات سے کھلتی ہے کہ جن نشانیوں کو حضرت مسیح ایمانداروں کے لئے قرار دے گئے تھے ان میں سے ایک بھی ان لوگوں میں پائی نہیں جاتی۔ حضرت مسیح نے فرمایا تھا کہ اگر تم میری پیروی کرو گے تو ہر ایک طرح کی برکت اور قبولیت میں میرا ہی روپ بن جاؤ گے اور معجزات اور قبولیت کے نشان تم کو دیے جائیں گے اور تمہارے مومن ہونے کی یہی علامت ہوگی کہ تم طرح طرح کے نشان دکھلا سکو گے اور جو چاہو گے تمہارے لئے وہی ہوگا اور کوئی بات تمہارے لئے ناممکن نہیں ہوگی لیکن عیسائیوں کے ہاتھ میں ان برکتوں میں سے کچھ بھی نہیں وہ اس خدا سے نا آشنا محض ہیں جو اپنے مخصوص بندوں کی دعائیں سنتا ہے اور انہیں آمنے سامنے شفقت اور رحمت کا جواب دیتا ہے اور عجیب عجیب کام ان کے لئے کر دکھاتا ہے۔“ اب جاننا چاہئے کہ محبوبیت اور قبولیت اور ولایت حقہ کا درجہ جس کے کسی قدر مختصر طور پر نشان بیان کر چکا ہوں یہ بجز اتباع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے