ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 440
روحانی خزائن جلد۴ اسلام کو چھوڑ کر عیسائیت کی جھولی میں گرتے جاتے تھے اور کچھ بالکل اسلام سے لاتعلق ہور ہے تھے۔ اس وقت اگر عیسائیت اور دوسرے مذاہب کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لئے اگر کوئی شخص تھا تو ایک ہی جری اللہ تھا یعنی حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام ۔ آپ نے ان مذاہب سے تن تنہا چو کبھی لڑائی لڑی۔ انجمن حمایت اسلام سے ایک عیسائی عبداللہ جیمز نے تین سوال اسلام کی نسبت بطلب جواب تحریر کئے ۔ انہوں نے یہ سوال حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت مولانا نور الدین صاحب کو بھی ارسال کئے ۔ ان جوابات کو انجمن حمایت اسلام نے ۱۳۰۹ھ میں ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات کے نام سے شائع کیا۔ ( اس کتاب کو بعد میں قادیان سے تصدیق النبی کے نام سے شائع کیا گیا جس میں صرف حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے جوابات شائع کئے گئے ۔ ) انجمن حمایت اسلام نے اس کے دیباچہ میں تحریر کیا کہ دین اسلام کے وہ مخلص پیرو بندے جو اپنی اعلیٰ درجے کی دین داری، لیاقت، فضیلت، حسن اخلاق وغیرہ خوبیوں کے باعث آج کل کی معدن علم ہونے کی مدعی قوموں کے استاد تھے ۔ انہیں کی نسلیں آج جاہل مطلق بے ہنر محض اور اپنے بچے مذہب کے مقدس اصولوں کی پابندی سے کوسوں دور ہیں۔ ان کی جہالت کا نتیجہ یہ ہے کہ بت پرست تو میں جن کے پاس اپنے مذہب کی حقیقت کی کوئی بھی عقلی اور نقلی دلیل نہیں علانیہ اسلام کی تردید کے واسطے کھڑی ہیں اور ہمیں اپنی بے علمی اور نالیاقتی سے ان کے جواب دینے کی جرات نہیں ۔ “ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نہایت شرح اور بسط کے ساتھ ان سوالات کے جواب دیئے۔ بطور نمونہ چند اقتباسات پیش ہیں۔ اب اے حق کے طالبو! اور بچے نشانوں کے بھوکو اور پیاسو!! انصاف سے