ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 439
روحانی خزائن جلد۴ ۴۳۹ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں آخری زمانہ میں اسلام کے از سر نو احیاء اور غلبہ کے لئے اُمت میں مسیح موعود کے مبعوث ہونے کی بشارت دی وہاں مسیح موعود کا ایک بنیادی کام فَيَكْسِرُ الصَّلِيْبَ وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ (بخاری کتاب الانبیاء باب نزول عیسیٰ ابن مریم) یعنی مسیح موعود صلیب کو توڑے گا اور خنزیر کو قتل کرے گا بھی بیان فرمایا ۔ صلیب کو توڑنے سے مراد یہ تھی کہ مسیح موعود عیسائیت کے عقائد باطلہ کے زور کو توڑ کر ان کی بجائے اسلام کے عقائد حقہ کو غالب کرے گا اور خنزیر صفت لوگوں سے ہر قسم کی پلیدی دور کر کے انہیں پاک و صاف اور مطہر بنائے گا۔ اس حدیث میں جہاں مسیح موعود کے مبعوث ہونے کی بشارت دی گئی تھی وہاں اس میں یہ واضح اشارہ بھی مضمر تھا کہ آخری زمانہ میں عیسائیت کو بہت فروغ حاصل ہوگا یہاں تک کہ وہ پورے کر ہ ارض پر چھا جائے گا۔ اُس وقت جو مسلمانوں کی حالت تھی اس سے ہر وہ مسلمان جس کے دل میں اسلام کا درد تھا بے چین تھا۔ برصغیر میں آریوں اور عیسائی پادریوں اور اُن کے مبلغوں نے اسلام پر بے انتہا تابڑ توڑ حملے شروع کئے ہوئے تھے اتنے شدید حملے تھے کہ مسلمان علماء بھی اس وقت سہمے ہوئے تھے اور ان کے پاس کوئی جواب ان حملوں کا نہیں تھا۔ کچھ مسلمان تو لا جواب ہونے کی وجہ سے