احمدی اور غیراحمدی میں کیا فرق ہے؟ — Page 487
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۸۳ احمدی اور غیر احمدی میں کیا فرق ہے؟ یہ خوب یا درکھو کہ جو شخص خدا تعالیٰ کے لیے ہو جاوے خدا تعالیٰ اس کا ہو جاتا ہے اور خدا کسی کے دھوکے میں نہیں آتا ۔ اگر کوئی یہ چاہے کہ ریا کاری اور فریب سے خدا کو ٹھگ لوں گا تو یہ حماقت اور نادانی ہے۔ وہ خود ہی دھوکا کھا رہا ہے۔ دنیا کے زیب ، دنیا کی محبت ساری خطا کاریوں کی جڑ ہے۔ اس میں اندھا ہو کر انسان انسانیت سے نکل جاتا ہے اور نہیں سمجھتا کہ میں کیا کر رہا ہوں اور مجھے کیا کرنا چاہیے تھا۔ جس حالت میں عقلمند انسان کسی کے دھوکا میں نہیں آسکتا تو اللہ تعالیٰ کیونکر کسی کے دھوکا میں آ سکتا ہے ۔ مگر ایسے افعال بد کی جڑ دنیا کی محبت ہے اور سب سے بڑا گناہ جس نے اس وقت مسلمانوں کو تباہ حال کر رکھا ہے اور جس میں وہ مبتلا ہیں وہ یہی دنیا کی محبت ہے۔ سوتے جاگتے ، اٹھتے بیٹھتے ، چلتے پھرتے ہر وقت لوگ اسی غم وہم میں پھنسے ہوئے ہیں اور اُس وقت کا لحاظ اور خیال بھی نہیں کہ جب قبر میں رکھے جاویں گے۔ ایسے لوگ اگر اللہ تعالیٰ سے ڈرتے اور دین کے لیے ذرا بھی ہم و غم رکھتے تو بہت کچھ فائدہ اٹھا لیتے ۔ سعدی کہتا ہے۔ ع گر وزیر از خدا ترسیدی ملا زم لوگ تھوڑی سی نوکری کے لیے اپنے کام میں کیسے چست و چالاک ہوتے ہیں لیکن جب نماز کا وقت آتا ہے تو ذرا ٹھنڈا پانی دیکھ کر ہی رہ جاتے ہیں۔ ایسی باتیں کیوں پیدا ہوتی ہیں؟ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت دل میں نہیں ہوتی۔ اگر خدا تعالیٰ کی کچھ بھی عظمت ہو اور مرنے کا خیال اور یقین ہو تو ساری مستی اور غفلت جاتی رہے۔ اس لیے خدا تعالیٰ کی عظمت کو دل میں رکھنا چاہیے اور اس سے ہمیشہ ڈرنا چاہیے۔ اس کی گرفت خطرناک ہوتی ہے۔ وہ چشم پوشی کرتا ہے اور درگذ رفرماتا ہے لیکن جب کسی کو پکڑتا ہے تو پھر بہت سخت پکڑتا ہے یہاں تک کہ لَا يَخَافُ عُقبها لے پھر وہ اس امر کی بھی پروانہیں کرتا کہ اس کے پچھلوں کا کیا حال ہوگا۔ برخلاف اس کے جولوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے اور اُس ل الشمس : ١٦