رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 17 of 169

رسالہ درود شریف — Page 17

ماله درود شریف گر ۱۴ نہ ہو تیری عنایت عبادت بیچ ہے فضل پر تیرے ہے سب جہد و عمل کا انحصار جن یہ ہے تیری عنایت وہ بدی سے دور ہیں رہ میں حق کی قوتیں ان کی چلیں بن کر قطار چھٹ گئے شیطاں سے جو تھے تیری الفت کے اسیر جو ہوئے تیرے لئے بے برگ و بر پائی بہار سب پیاسوں سے نکوتر تیرے منہ کی ہے پیاس جس کا دل ہے اس سے بریاں پا گیا وہ آبشار جس کو تیری دھن لگی آخر وہ تجھ کو جا ملا جس کو بے چینی ہے یہ وہ پا گیا آخر قرار علامت گریه و دامان دشت عاشقی کی ہے کیا مبارک آنکھ جو تیرے لئے ہو اشکبار تیری درگہ میں نہیں رہتا کوئی بھی بے نصیب شرط رہ پر صبر ہے اور ترک نام اے مرے پیارے جہاں میں تو ہی ہے اک بینظیر جو ترے مجنوں حقیقت میں وہی ہیں ہوشیار اس جہاں کو چھوڑنا ہے تیرے دیوانوں کا کام نقد پا لیتے ہیں وہ اور دوسرے امید وار اضطرار کون ہے جس کے عمل ہوں پاک بے انوار عشق کون کرتا ہے وفا بن اس کے جس کا دل فگار ۱۵ رساله درود شریفه کون چھوڑے خواب شیریں کون چھوڑے اکل و شرب کون لے خار مغیلاں چھوڑ کر پھولوں کے ہار کوئی عشق ہے جس سے ہوں طے یہ سارے جنگل پر خطر عشق ہے جو سر جھکا دے زیر تیغ آبدار نزدیک تر راہ محبت سے نہیں طے کریں اس راہ سے سالک ہزاروں دشت خار اس کے پانے کا یہی اے دوستو اک راز ہے ره کیمیا ہے جس سے ہاتھ آ جائے گا زر بے شمار تیر تاثیر محبت کا خطا جاتا نہیں تیر اندازد نہ ہونا اس میں زینهار ہے یہی اک آگ تا تم کو بچاوے اگ سے ہے یہی پانی کہ نکلیں جس سے صدہا آبشار اس سے خود آ کر ملے گا تم سے سے وہ یار ازل اس سے تم عرفان حق سے پہنو گے پھولوں کے ہار (براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن ۲۱ صفحہ ۱۲۷)