رسالہ درود شریف — Page 67
رساله درود شریف مسلمانوں کے لئے یہ دن مصائب اور نوازل کے ہیں۔اس لئے کم سے کم صبح کی نماز میں قنوت ضروری ہے۔قنوت کی بعض دعائیں ماثور بھی ہیں۔مگر مشکلات جدیدہ کے وقت اپنی عبارت میں استعمال کرنی پڑیں گی۔غرض نماز کو مغز دار بنانا چاہئے۔جو دعا اور تسبیح و تہلیل سے بھری ہوئی ہو۔اور دعا اور استغفار اور درود شریف کا التزام رکھنا چاہئے۔اور ہمیشہ خدا تعالیٰ سے نیک کاموں اور نیک خیالوں اور نیک ارادوں کی توفیق مانگنی چاہئے۔کہ بجز اس کی توفیق کے کچھ نہیں ہو سکتا۔یہ ہستی سخت نا پائیدار اور بے بنیاد ہے۔غفلت اور غافلانہ آسائش کی جگہ نہیں۔ہر سال اپنے اندر بڑے بڑے انقلاب پوشیدہ رکھتا ہے۔خدا تعالیٰ سے عافیت مانگنی چاہئے۔اور ہراساں اور ترساں رہنا چاہئے کہ وہ ڈرنیوالوں پر رحم کرتا ہے۔اگر چہ وہ گنہگار ہی ہوں۔اور چالاکوں اور خود پسندوں اور ناز کرنے والوں پر اس کا قہر نازل ہوتا ہے۔اگر چہ وہ کیسے ہی اپنے تئیں نیک سمجھتے ہوں۔والسلام خاکسار غلام احمد از قادیان ۲۱ جنوری ۱۸۹۲ء (اخبار البدر جلد ۲ نمبر ۳۰ پر چه ۱۴ اگست ۱۹۰۳ء) ا پرچہ درود شریف کے پڑھنے کا صحیح طریق اور اس کی غرض " آپ اتباع طریقہ مسنونہ میں یہ لحاظ بدرجہ غایت رکھیں کہ ہر ایک عمل رسم اور عادت کی آلودگی سے پاک ہو جائے۔اور دلی محبت کے پاک فوارہ سے جوش مارے۔مثلاً درود شریف اس طور پر نہ پڑھیں کہ جیسا عام لوگ طوطے کی طرح پڑھتے ہیں۔نہ ان کو جناب حضرت رسول الله من الم سے کچھ کامل خلوص ہوتا ہے اور نہ وہ حضور نام سے اپنے رسول مقبول کے ۱۱۵ رساله و رود شریف لئے برکات الہی مانگتے ہیں۔بلکہ درود شریف سے پہلے اپنا یہ مذہب قائم کر لیتا چاہئے۔کہ رابطہ محبت آنحضرت میں اور اس درجہ تک پہنچ گیا ہے۔کہ ہرگز اپنا دل تجویز نہ کر سکے۔کہ ابتدائے زمانہ سے انتہا تک کوئی ایسا فرد بشر گزرا ہے جو اس مرتبہ محبت سے زیادہ محبت رکھتا تھا۔یا کوئی ایسا فرد آنے والا ہے۔جو اس سے ترقی کرے گا۔اور قیام اس مذہب کا اس طرح پر ہو سکتا ہے۔کہ جو کچھ محبان صادق آنحضرت مسلم کی محبت میں مصائب اور شدائد اٹھاتے رہے ہیں۔یا آئندہ اٹھا سکیں۔یا جن جن مصائب کا نازل ہونا عقل تجویز کر سکتی ہے۔وہ سب کچھ اٹھانے کے لئے دلی صدق سے حاضر ہو۔اور کوئی ایسی مصیبت عقل یا قوت واہمہ پیش نہ کر سکے۔کہ جس کے اٹھانے سے دل رک جائے۔اور کوئی ایسا حکم عقل پیش نہ کر سکے۔کہ جس کی اطاعت سے دل میں کچھ روک یا انقباض پیدا ہو۔اور کوئی ایسا مخلوق دل میں جگہ نہ رکھتا ہو۔جو اس جنس کی محبت میں حصہ دار ہو۔اور جب یہ مذہب قائم ہو گیا۔تو درود شریف۔۔۔۔۔۔اس غرض سے پڑھنا چاہئے۔کہ تا خداوند کریم اپنی کامل برکات اپنے نبی کریم پر نازل کرے اور اس کو تمام عالم کے لئے سرچشمہ برکتوں کا بناوے۔اور اس کی بزرگی اور اس کی شان و شوکت اس عالم اور اس عالم میں ظاہر کرے۔یہ دعا حضور تام سے ہونی چاہئے۔جیسے کوئی اپنی مصیبت کے وقت حضور نام سے دعا کرتا بلکہ اس سے بھی زیادہ تضرع اور التجاء کی جائے۔اور کچھ اپنا حصہ نہیں رکھنا چاہئے۔کہ اس سے مجھ کو یہ ثواب ہو گا۔یا یہ درجہ ملے گا۔بلکہ خالص یہی مقصود چاہئے۔کہ برکات کاملہ اللہ حضرت رسول مقبول می پر ہے۔-