رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 54 of 169

رسالہ درود شریف — Page 54

رساله درود شریف AA ۸۹ رہ سالہ ور ہر بیان او سراسر در بود منطق او از معارف پر بود از کمال حکمت و تکمیل دیں پا نهد بر اولین و آخرین و ز کمال صورت و حسن اتم جمله خوباں را کند زیر قدم تا عش چون انبیا گردد ز نور نورش افتد بر همه نزدیک ! و دور شیر حق پر ہیبت از رب جلیل دشمناں پیشش چو روباه ذلیل (براہین احمدیہ۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۲۲ تا ۷۳۸) (۱۴) اس کا کلام حقائق و معارف سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔اس کا ہر ایک بیان سرا سر موتیوں کی لڑی کی طرح ہوتا ہے۔(۱۵) حکمت کے کمال اور دین کی تکمیل کی رو سے تمام اولین اور آخرین اس کے قدم کے نیچے ہیں۔(۱۶) اس کے انتہائی جمال اور کمال حسن کی وجہ سے تمام حسین اس کے آگے اسکے پاؤں کے نیچے کی مٹی کی طرح ہیں۔(۱۷) اس کا متبع منور ہو کر انبیاء کی طرح ہو جاتا ہے۔اس کا نور نزدیک والوں کو اور دور والوں کو سب کو روشن کرتا ہے۔(۱۸) خدا تعالی کا پر ہیبت شیر ہے۔اس کے دشمن اس کے آگے ذلیل لومڑی کی طرح ہیں۔ايضا در اثبات حیات نبوی میم (ماخوذ از مکتوب منظوم بنام مولوی الله و تا صاحب استاد صاحبزادگان مورخه ۶ ستمبر ۱۸۸۲ء) کیسے کش بود مصطفیٰ رہنما سر بخت او باشد اندر سما جہاں جمله مرده فقاد است و زار یکی زنده او هست از کرد گار چنین است ثابت بقول سروش اگر راز معنی نیابی خموش اگر در ہوا ہمچو مرغان پری دگر بر سر آب یا بگذری وگر ز آتش آئی سلامت بروں وگر خاک را زر کنی از فسوں اگر منکری از حیات رسول سراسر زیاں است و کار فضول (1) جس کا رہبر مصطفی میں ہی ہو اس کے نصیبے کا سر اپنی بلندی کی وجہ سے آسمان پر پہنچا ہوا ہوتا ہے۔(۲) تمام جهان مردہ اور خستہ حال پڑا ہے۔خدا تعالی کے ہاتھ سے زندہ کیا ہوا (۳) جبرائیل کی لائی ہوئی وحی الہی سے ایسا ہی ثابت ہو تا ہے۔اگر تم حقیقت سے نا آشنا ہو تو اس معاملہ میں خاموش رہو۔(۴) اگر تو پرندوں کی طرح ہوا میں بھی اڑے یا (میدان کی طرح) پانی کی سطح پر چل کر دکھائے۔(۵) یا آگ میں پڑ کر اس سے صحیح سلامت نکل آتا ہو یا کوئی منتر پڑھ کر مٹی کو ایک وہی ہے۔سونا بنا دیتا ہو۔(۲) تاہم اگر تو حیات رسول سے منکر ہے تو یہ سب کار روائی سراسر فضول اور موجب نقصان ہو گی۔