رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 51 of 169

رسالہ درود شریف — Page 51

رساله درود شریف " ۸۲ دریغا گرد هم صد جاں دریں راہ نباشد نیز شایان محمد که ناید کس به میدان محمد چہ ہیبت ها بداوند این جوان را الا اے دشمن نادان و بے راہ بترس از شیخ بران محمد ره مولی که گم کردند مردم بچو در آل و اعوان محمد الا اے منکر از شان محمد ہم از نور نمایان محمد کرامت گرچہ بے نام نشان است بیا بنگر j ر غلمان محمد داشتهار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء) (۲۲) ہائے حسرت ، اگر میں اس راہ میں مارا جاؤں اور پھر زندہ کر کے اس کے لئے مارا جاؤں اور اسی طرح سو بار اس پر جان فدا کروں تو پھر بھی یہ محمد کی شان کے مناسب حال نہیں ہو گا۔(۲۳) اس جو ان کی کیسی ہیبت ہے کہ آپ کے مقابل پر میدان میں آپ کے ڈر کے مارے کوئی نہیں آتا۔(۲۴) اے نادان اور گمراہ دشمن ہوش میں آ۔محمد کی کاٹنے والی تلوار سے ڈر جا۔(۲۵) خدا تعالیٰ کا رستہ جو لوگوں نے گم کر دیا ہے اب اس کو محمد کی آل اور اس کے مددگاروں میں ڈھونڈ۔ے۔(۲۶) اے وہ شخص جو محمد کی شان کا اور آپ کے بالکل ظاہر نور کا منکر ہے سن (۲۷) کہ کرامت اگر چہ بے نام و نشان ہو چکی ہے۔آکر محمد کے غلاموں کے پاس اسے دیکھ لے۔سوم رساله درود شریف ايضا در عظمت شان و افاضه آنحضرت مال العالم جان و دلم فدائے جمال محمد است خاکم نثار کوچه آل محمد دیدم بعین ور قلب و شنیدم بگوش ہوش ہر مکاں ندائے جمال محمد است این چشمه روان که بخلق خدا دہم یک قطره ز بحر کمال محمد است ایس آشم ز آتش مهر محمدی است دیں آب من ز آب زلال محمد است اشتهار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء) (1) میری جان اور دل محمد کے جمال پر فدا ہے۔میری خاک محمد کی آل کے کوچے پر نثار ہے۔(۲) میں نے دل کی آنکھ سے دیکھا ہے اور ہوش کے کان سے سنا ہے کہ ہر ایک مقام میں محمد کے جمال کی ندا کی گونج ہے۔(۳) یہ جاری چشمہ جو میں لوگوں کو پلا رہا ہوں۔محمد کے کمال کے سمندر کا ایک قطرہ ہے۔(۴) یہ میری آگ محمد کی محبت کی آگ سے روشن شدہ ہے اور یہ میرا پانی محمد ہی کے مصفا پانی سے حاصل شدہ ہے۔