رسالہ درود شریف — Page 160
رساله درود شریف اپنے گناہ بخشوائے۔رسول کریم ملی الہ وسلم پر درود بھیجے۔پھر اپنے مطلب کی دعا مانگے خواہ اپنی زبان میں ہو انشاء اللہ قبول ہو گی۔دعا نماز کے اندر بھی سلام پھیرنے سے پہلے مانگنی چاہئے۔" (اور اس کے بعد اس حدیث کو بیان کیا جو اس رسالہ کے صفحہ ۱۶۶ پر درج ہو چکی ہے۔(اخبار بدر جلد ۱۴ نمبرا) درود شریف آنحضرت کی ترقیات کا موجب ہے ایضاً ایک سوال کے جواب میں کوئی نبی یا رسول کہلانے سے حضرت محمد رسول اللہ مال کے برابر نہیں ہو سکتا۔میرا اعتقاد حضرت نبی کریم کی نسبت وہی ہے جو درس میں بعض وقت بے اختیار کہدیا کرتا ہوں۔کہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی کامل انسان آپ کی مثل پیدا ہو۔مسیح اور موسیٰ بھی رسول تھے۔مگر محمد رسول اللہ کے مقابل میں کیا حقیقت رکھتے ہیں۔تمام مذہبوں کا مشترک مسئلہ دعا ہے۔تیرہ سو برس سے اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ کی دعا ہو رہی ہے جو کسی نبی کو نصیب نہیں ہوئی۔پس ان کے مدارج میں کس قدر ترقی ہوئی ہوگی۔" (بدر جلد ۸ نمبر ۲۶) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر درود قرآن کریم میں مسیح موعود پر درود بھیجنے کا حکم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت اور بروز (یعنی ظہور) آنحضرت ہی کی دوسری بعثت اور دوسرا بروز ہے۔جیسا کہ حضور اپنے اشتہار ایک غلطی کا ازالہ " میں فرماتے ہیں:۔امام رساله درود شریف میں بموجب آیت وَ اخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ بروزی طور پر وہی خاتم الانبیاء ہوں۔اور خدا نے آج سے ہیں برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت امام کا ہی وجود قرار دیا ہے۔میں بروزی طور پر آنحضرت میں ہوں۔اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں۔" اور تمہ حقیقۃ الوحی میں فرماتے ہیں:۔" وَأَخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ یعنی آنحضرت کے اصحاب میں سے ایک اور فرقہ ہے جو ابھی ظاہر نہیں ہوا۔یہ تو ظاہر ہے کہ اصحاب وہی کہلاتے ہیں جو نبی کے وقت میں ہوں۔اور ایمان کی حالت میں اس کی صحبت سے مشرف ہوں۔اور اس سے تعلیم اور تربیت پاویں۔پس اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آنے والی قوم میں ایک نبی ہو گا کہ وہ آنحضرت امی کا بروز ہو گا۔اس لئے اس کے اصحاب آنحضرت میام کے اصحاب کہلائیں گے۔اور جس طرح صحابہ رضی اللہ عنہم نے اپنے رنگ میں خدا تعالیٰ کی راہ میں دینی خدمتیں ادا کی تھیں۔وہ اپنے رنگ میں ادا کریں گے۔بہر حال یہ آیت آخری زمانہ میں ایک نبی کے ظاہر ہونے کی نسبت ایک پیشگوئی ہے ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ ایسے لوگوں کا نام اصحاب رسول اللہ رکھا جائے جو آنحضرت م کے بعد پیدا ہونے والے تھے جنہوں نے آنحضرت ملی ایم کو نہیں دیکھا۔