رسالہ درود شریف — Page 16
اللہ درود شریف ۱۲ ايضاً تجھے سب زور و قدرت ہے خدایا تجھے پایا ہر اک مطلب کو پایا ہر اک عاشق نے ہے اک بت بنایا ہمارے دل میں یہ دلبر سمایا وہی آرام جاں اور دل کو بھایا وہی جس کو کہیں رب البرایا ہوا ظاہر قَبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي مجھے وہ بالا یادی ہے مجھے اس یار سے پیوند جاں ہے وہی جنت وہی دار الاماں ہے بیاں اس کا کروں طاقت کہاں ہے محبت کا تو اک دریا رواں ہے کیا احساں ترے ہیں میرے ہادی سبحان الَّذِي أَثْرَى الْأَعَادِي تری رحمت کی کچھ قلت نہیں ہے تمہی اس سے کوئی ساعت نہیں ہے شمار فضل اور رحمت نہیں ہے مجھے اب شکر کی طاقت نہیں ہے کیا احسان ہیں تیرے میرے ہادی فسبحان الَّذِي أَخرَى الأعادي ترے کوچہ میں کن راہوں سے آؤں وہ خدمت کیا ہے جس سے تجھ کو پاؤں محبت ہے کہ جس سے کھینچا جاؤں خدائی ہے خودی جس سے جلاؤں محبت چیز کیا کس کو بتاؤں وفا کیا راز ہے کس کو سناؤں میں اس آندھی کو اب کیونکر چھپاؤں یہی بہتر کہ خاک اپنی اڑاؤں کہاں ہم اور کہاں دنیائے مادی فحان الَّذِي أَخرَى الأَعادِي رساله و رو کوئی اس پاک سے جو دل لگاوے کرے پاک آپ کو تب اس کو پاوے جو مرتا ہے وہی زندوں میں جاوے جو جلتا ہے وہی مردے جلا دے ثمر ہے دور کا کب غیر کھادے چلو اوپر چلو اوپر کو وہ نیچے نہ آوے نہاں اندر نہاں ہے کون لاوے غریق عشق وہ موتی اٹھاوے مجھے تو نے دولت اے خدا دی نَبْحَانَ الَّذِي أَخرى ايضاً الأعادي ( آمین صاحبزادگان) اے خدا اے کارساز و عیب پوش و کردگار اے مرے پیارے مرے محسن میرے پروردگار کس طرح تیرا کروں اے ذوالمنن شکر و سپاس وہ زباں لاؤں کہاں سے جس سے ہو یہ کاروبار اے فدا ہو تیری رہ میں میرا جسم و جان ودل میں نہیں پاتا کہ تجھ سا کوئی کرتا ہو پیار اس قدر مجھ پر ہوئیں تیری عنایات وکرم جن کا مشکل ہے کہ تا روز قیامت ہو شمار باغ میں تیری محبت کے عجب دیکھے ہیں پھل ملتے ہیں مشکل سے ایسے سیب اور ایسے انار ہے تیرے بن اے میری جاں یہ زندگی کیا خاک ایسے جینے سے تو بہتر مر کے ہو جانا غبار