رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 151 of 169

رسالہ درود شریف — Page 151

رساله درود شریف ۲۸۲ آنحضرت سے قبل ابراہیمی ملت میں آنیوالے تمام انبیاء سے بڑھ کر عظیم الشان نبی امت محمدیہ میں پس درود میں یہ دعا کی جاتی ہے کہ جو کچھ حضرت ابراہیم کی امت کو دیا گیا، اس سے بڑھ کر ہمیں دے۔اور یہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ رسول کریم کی امت میں جو نبی آئے ، وہ ابراہیمی سلسلہ کے نبیوں سے بڑھ کر اللہ تک ہو۔کے امت محمد محمدیہ میں آنے والے نبی کا جسمانی اولاد میں سے نہ ہونے باوجود سابقہ انبیاء سلسلہ ابراہیمی سے بڑھ کر ہونا آنحضرت کی عظمت کا ایک ثبوت ہے ہاں ان میں یہ بھی فرق ہو گا کہ رسول کریم کی روحانی ذریت میں نبوت رکھی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جسمانی ذریت میں۔اس میں بھی رسول کریم میں اللہ کا کمال ظاہر ہوتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ اگر مومن سے کسی کو جسمانی رشتہ ہو۔تو اس کا بھی لحاظ رکھا جاتا ہے۔اس وجہ سے حضرت ابراہیم کی نسل کو جو نبوت ملی ، اس میں جسمانی رشتہ کا بھی لحاظ رکھا گیا تھا۔مگر رسول کریم ملی کی امت پر جو فیض ہوا وہ صرف روحانی تعلق کی وجہ سے اور روحانیت میں کمال حاصل کرنے کے باعث ہوا۔درود میں امت محمدیہ کی حوصلہ افزائی پس درود مسلمانون کو یہ بتانے کے لئے ہے کہ تمہارے اندر ان فیوض ۲۸۳ ر ساله درود شریف سے بڑھ کر جو حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی امت پر ہوئے جاری رہیں گے۔اور یہ دعا مسلمانوں کی حوصلہ افزائی کے لئے تھی۔کہ تمہیں وہ کچھ ملنا ہے جو مانگنے سے بڑھ کر ہو گا۔کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق ایسا ہی ہوا۔اس دعا کی جامعیت رسول کریم میں سے بڑھ کر عرفان کس کو ہو سکتا ہے، اور آپ نے اپنی امت کے لئے کیا کیا دعائیں نہ کی ہونگی۔مگر باوجود اس کے خدا تعالیٰ آپ کی امت سے یہ دعا کراتا ہے کہ جس طرح حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو ان کے مانگنے سے بڑھ کر دیا گیا۔اسی طرح رسول کریم میں ہم نے جو دعائیں کیں، ان سے بڑھ کر دیا جائے۔یہ کیسی جامع دعا ہے ، اس سے بڑھ کر کوئی کیا مانگ سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ صوفیاء کہتے چلے آئے ہیں کہ روحانی ترقی کا گر درود ہے۔درود انسان کی اپنی روحانی ترقی کا ذریعہ ہے یہ سن کر نادان کہتے ہیں کہ محمد م کے لئے رحمت و برکت درود میں مانگی جاتی ہے، اپنے لئے اس میں کیا ہے کہ اس کے ذریعہ سے روحانی ترقی ہو سکتی ہے۔مگر درود دراصل اپنے ہی لئے دعا ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام سے نسبت دیگر اس دعا کی وسعت اور جامعیت کو اور زیادہ بڑھا دیا گیا ہے۔پس درود بہترین دعا ہے اور اس پر جتنا زور دیا جائے۔اتنا ہی تھوڑا ہے۔میں سمجھتا ہوں اس نکتہ کو یاد رکھ کر اگر کوئی درود پڑھے گا۔تو اسے