رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 148 of 169

رسالہ درود شریف — Page 148

رساله درود شریف ۲۷۶ رساله درود شریف کا وارث کرنے اور سب سے بڑارتبہ عطا کرنے کے لئے اس طریق سے بھی السلام کے متعلق دو قسم کی فضیلتیں بیان کی گئی ہیں۔ایک تو ذاتی مثلا یہ کہ کام لیا ہے کہ جو لوگ آنحضرت اما م پر درود بھیج کر دعا کریں گے۔ان کی دعائیں زیادہ قبول ہوں گی۔" (رسالہ قبولیت دعا کے طریق) رود شریف کی تاکید اور درود کا مطلب رسول کریم میں نے ہی ہمیں خدا کے قرب کا راستہ بتایا ہے اس ابراہیم حلیم ہے اواب ہے ، صدیق ہے خدا کا مقرب ہے۔ان فضیلتوں کے لحاظ سے لازماً ماننا پڑے گا کہ رسول کریم ملی حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بڑھ کر تھے۔ورنہ آپ خاتم النبیین اور سید ولد آدم نہیں ہو سکتے۔مگر ایک چیز حضرت ابراہیم علیہ السلام میں ایسی پائی جاتی ہے جو ان کی ذاتی خوبی نہیں بلکہ ان کی قوم کی فضیلت ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا۔ہے لئے ہمارا فرض ہے کہ جس قدر آپ کا شکریہ ادا کر سکیں کریں۔اور اس کا وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ کہ ہم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ہی طریق یہ ہے کہ ہم آپ کے لئے کثرت سے درود پڑھیں۔درود کا مطلب نیہ نبوت نہیں دی تھی۔بلکہ اس کی ذریت کو بھی بڑا درجہ دیا تھا، اس میں نبوت ہے کہ خدا تعالیٰ آپ کے مدارج عالیہ کو اور ترقی دے۔اور یہ رسول کریم رکھدی تھی۔یہ وہ فضیلت ہے جو حضرت ابراہیم کی نسل کو خاص طور پر سوال کے احسان کا بدلہ ہے جو آپ نے ہر مومن پر کیا"۔الفضل جلد ۲۲ نمبر ۵ پر چه ۱۰ جولائی ۱۹۳۴) درود شریف کے الفاظ كَمَا صَلَّیت کی تفسیر رسول کریم میل کا درجہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بڑا ہے۔ایک بڑے درجہ والے کے لئے یہ دعا کرنا کہ اسے وہ کچھ ملے جو اس سے چھوٹے درجہ والے کو ملا۔اور نہ صرف ایک دفعہ بلکہ یہ دعا کرتے ہی چلے جانا اور قیامت تک کرتے چلے جانا۔یہ ایک معمے اور چیستان ہے۔جواب قرآن کریم کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں حضرت ابراہیم علیہ حاصل ہوئی۔کہ اس میں نبوت رکھی گئی۔اس کے ساتھ ہی ہم ایک اور بات دیکھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم نے خدا تعالیٰ سے دعا مانگی تھی۔کہ رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةٌ لَّكَ (البقره : ۱۲۹) کہ میری اور اسماعیل کی اولاد سے امت مسلمہ پیدا کر دے۔اب دیکھو حضرت ابراہیم علیہ السلام تو یہ دعا مانگتے ہیں کہ ان کو امت مسلمہ ملے۔مگر خدا تعالی اس دعا کو اس رنگ میں قبول کرتا ہے کہ ہم نبیوں کی جماعت پیدا کریں گے گویا حضرت ابراہیم نے خدا تعالیٰ سے جو مانگا اس سے بڑھ کر خدا تعالیٰ نے دیا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا حضرت ابراہیم علیہ السلام سے یہ سلوک تھا کہ آپ نے جو مانگا خدا تعالیٰ نے اس سے بڑھ کر دیا۔سوائے اس کے جو اس کی سنت اور قضا کے معاملہ میں آکر ٹکرانے والا تھا۔ایسے موقعہ پر بے شک انکار کر دیا۔ورنہ ان سے یہ معاملہ ہوا کہ انہوں نے مانگے مسلم اور ملے